خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد ۶ 292 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء کر کے ہمیں سمجھا دیا کہ بہت ہی عظیم الشان موقع ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم نے سب کچھ مجھے دیا اپنی ہر طاقت میں سے ۔ مجھے لوٹایا ہے۔ چونکہ تم پورے پورے میرے ہو رہے ہو اس لئے میں آج پورا تمہارا ہو جاتا ہوں ۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ نمازوں میں نفسانیت پائی جاتی ہے یا حج میں نفسانیت پائی جاتی ہے یا زکوۃ میں نفسانیت پائی جاتی ہے ایک تمثیل ہے جس کے ذریعے ایک محبت اور عشق کا راز سمجھایا گیا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ ڈھال ہے پس تم میں سے جب کسی کا روزہ ہے تو نہ وہ بیہودہ باتیں کرے نہ شور و شر کرے اگر اس سے کوئی گالی گلوچ ہو یا لڑے جھگڑے تو وہ جواب میں کہے میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ اب دیکھیں روز مرہ ہمارے گھروں میں جو معاشرے کے مسائل ہیں اگر ایک انسان اس نصیحت کو ہی پیش نظر رکھ کے اسے اپنا لے اسے مضبوطی سے پلے باندھ لے تو کتنے ہی گھر جو جہنم بنے ہوئے ہیں جنت بن سکتے ہیں ایک مہینے کی یہ ریاضت ہے صرف لیکن جو ایک مہینہ مسلسل اپنے گھر میں سخت کلامی سے بچ جائے گالی گلوچ سے بچ جائے ۔اسے یقیناً اپنے گھر میں ایک ایسی پاکیزہ تبدیلی دکھائی دے گی کہ سوائے اس کے کہ بالکل ہی کوئی جاہل مطلق ہو یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک مہینے کے بعد وہ دوبارہ بدیاں شروع کر دے اور اپنے گھر کو اپنے ہاتھوں سے پھر جہنم بنالے۔ لیکن اکثر جب آپ دیکھتے ہیں کہ روزوں میں سے گزرنے کے باوجود معاشرے میں اصلاح نہیں ہوتی تو یقین جانیں کہ اس لئے نہیں ہوتی کہ آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت پر عمل نہیں کیا جا تالا کھوں عہد یدار ہیں جو اپنی روز مرہ کی زندگی کی عادتوں میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔ اگر اونچی آواز میں شور وشر کرنے کی پہلے عادت تھی تو روزے میں بھی وہی عادت رکھتے ہیں۔ اگر بدکلامی کی عادت تھی تو روزے میں بھی بدکلامی ان سے ہوتی رہتی ہے۔ درشت مزاجی کی عادت تھی وہ بھی اسی طرح باقی رہتی ہے صرف ؟ رف بھوکے رہتے ہیں اور کچھ نہیں یا پیاسے رہتے ہیں اور کچھ نہیں۔ تو آنحضرت ﷺ نے تقویٰ کے راز سکھائے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تو کیا مطلب ہے کن چیزوں سے بچو تفصیل بیان فرمادی ۔ ایک نظریہ کو ایک حقیقت میں تبدیل کر کے دکھایا ہے فرمایا نہ تو وہ بے ہودہ باتیں کرے، نہ شور و شر کرے، اگر کوئی گالی گلوچ ہو یعنی لوگ اس کو گالیاں دیں تو وہ جواب میں کہے کہ میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ مجھے جواب دینا نہیں آتا میں مجبور ہوں اور خاص طور پر ایک ایسا شخص جو معاشرے میں مشہور ہو تیز کلامی کے لئے وہ جب چپ ہو گا تو لازماً تعجب ہوگا کہ آج اس کو کیا ہو گیا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ میاں میں بیمار نہیں ہوں مجھے اور کوئی تکلیف نہیں میں صلى الله صلى الله