خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 276
خطبات طاہر جلد ۶ 276 خطبہ جمعہ ۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء مسلمان بادشاہ ایک دفعہ ایک سفر پر جا رہا تھا اس کے ساتھ ایک وزیر تھا اور اس نے اپنے وزیر کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ جب بھی میں سفر پہ جاؤں میری شان کے مطابق کچھ اشرفیوں سے بھری ہوئی تھیلیاں ساتھ رکھ لیا کروتا کہ اگر مجھے کوئی بات پسند آئے اور میرا انعام دینے کو دل چاہے تو میری شان کے مطابق کوئی انعام ہو جو میں کسی خوش کرنے والے کو دے سکوں۔ چنانچہ اس کا دستور بھی یہی تھا کہ جب بھی سفر پہ جاتا تھا وزیر اس قسم کی تھیلیاں ساتھ رکھ لیا کرتا تھا۔ ایک موقع پر سفر کرتے ہوئے اس کا ایک بوڑھے کسان کے پاس سے گزر ہوا جو کھجور کی پنیری لگا رہا تھا، ایک جگہ سے کھجور کے چھوٹے چھوٹے پودے منتقل کر رہا تھا دوسری طرف وہ بڑی عمر کا تھا۔ بادشاہ وہاں کھڑا ہوا اور اس نے اسے تعجب سے پوچھا کہ اے بڑے میاں! آپ تو عمر کے آخری کنارے تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ آپ کیوں ایسا کام کر رہے ہیں جس کا پھل آپ نہیں کھا سکتے۔ یہ کھجور تو نو سال یا دس سال کے بعد پھل دے گا اس وقت تک آپ مر چکے ہوں گے تو کیوں اپنی محنت ضائع کر رہے ہیں۔ اس بوڑھے نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت ! میرے بڑوں نے جو درخت لگائے تھے میں نے ان کا پھل کھایا۔ اب میں جو درخت لگاؤں گا میرے چھوٹے بعد میں آنے والے وہ پھل کھائیں گے اسی طرح ایک نسل دوسری نسل کا شکر یہ ادا کیا کرتی ہے۔ یہ بات بادشاہ کو اتنی پسند آئی کہ جیسا کے اس کی عادت تھی اس نے زہ! کہہ دیا یعنی کیا خوب بہت ہی عمدہ اور وزیر کو حکم تھا کہ جب وہ زہ کہے تو تم فوراً ایک تھیلی اشرفیوں کی اس کو پیش کر دو ۔ چنانچہ بادشاہ نے زہ کہا اور وزیر نے اس بوڑھے کو ایک اشرفیوں کی ایک تھیلی تھمادی۔ بوڑھے نے جواب دیا کہ واہ ! بادشاہ سلامت کیا شان ہے میرے اس درخت کی کہ دنیا کے درخت تو نو نو دس دس سال انتظار کرتے ہیں پھل کا میرے اس درخت نے تو ابھی پھل دے دیا۔ بادشاہ کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ اس نے پھر زہ! کہہ دیا اور وزیر نے دوسری تھیلی اشرفیوں کی بھری ہوئی اس بوڑھے کو پکڑا دی۔ بوڑھے نے کہا اللہ تیری شان ! کیسا درخت تو نے مجھے عطا کیا ہے کہ دنیا کے کھجور کے درخت تو جب بھی پھل دیتے ہیں سال میں ایک پھل دیتے ہیں اور میرا درخت تو دو دو پھل دینے لگا۔ بادشاہ کہ منہ سے پھر زہ نکل گیا اور وزیر نے تیسری تھیلی اس کو پکڑا دی لیکن ساتھ ہی بادشاہ نے کہا کہ جلدی کرو یہاں سے نکلو ورنہ یہ میرا خزانہ خالی کر دے گا۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے سارے اگلے اور پچھلے بڑے اور چھوٹے