خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد ۶ 24 خطبہ جمعہ ۹ / جنوری ۱۹۸۷ء بنائی ہے اس کی حرکت ایک ہزار میل سے کچھ اوپر ہے یعنی کیونکہ ہر جگہ برابر نہیں لیکن جو زیادہ سے زیادہ حرکت ہے چوبیس گھنٹے میں چونکہ پوری ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ اس کا گھیر پچیس ہزار میل کے لگ بھگ ہے تو اس لئے ایک گھنٹے میں ایک ہزار میل سے کچھ اوپر رفتار سے ہم حرکت کر رہے ہیں اور پہیہ کی طرح بعینہ بظاہر و ہیں نکل آتے ہیں جہاں سے چلے تھے اور اس کے باوجود اس کی وجہ سے کوئیExcitement نہیں۔حرکت کا احساس نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اگر آپ متوجہ ہوں اور وقت کو سمجھیں زیادہ تو پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے Excitement اور بیجان کے کیا پیمانے رکھے ہیں۔ایک بات تو قطعی ہے یہ دورانی سفر اگر ہیجان کے بغیر ہوتو یہ بے معنی اور بور زندگی بن جاتی ہے۔چونکہ ہمیں رفتار کا احساس نہیں ہورہا جو بچے کو ہوتا ہے چھوٹے پہیہ پہ بیٹھ کے اس لئے ہمارے نزدیک زمین کھڑی ہے۔حرکت کا احساس کیسے ہو؟ اس کے اوپر جب آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بچوں کے کھیل کا پہیہ تو بعینہ و ہیں نکلتا ہے جہاں سے وہ چلتا ہے اور ہر حرکت مکمل کر کے وہیں جانکلتا ہے پھر لیکن زمین کا پہیہ وہاں نہیں نکل رہا بلکہ ہر حالت اس کے اندراس کثرت سے تبدیل ہورہی ہے کہ جب وہ ایک چکر پورا کرتا ہے تو اس وقت کی زمین بدل چکی ہوتی ہے اس کا نقشہ بدل چکا ہوتا ہے۔حالانکہ پہیہ اس شکل میں رہتا ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہورہی ہوتی لیکن زمین میں ہر وقت تبدیلی ہو رہی ہے۔اس لئے چوبیس گھنٹے کے بعد آپ کی زمین میں بے انتہا ایسی تبدیلیاں ہو چکی ہیں جن کو آپ گن بھی نہیں سکتے۔ارب ہا ارب تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ہر جانور تبدیل ہو رہا ہے یہاں تک کہ بعض جانوروں کے اندر جو خدا تعالیٰ نے ان کی زندگی کا چکر رکھا ہے وہ ایک چوبیس گھنٹے کے اندر کئی بار پورا ہو چکا ہوتا ہے۔بیکٹیریا جو ہمارے جسم کے اندر خوفناک بیماریاں بن کے بعض دفعہ داخل ہوتے ہیں ان کی زندگی کا پورا چکر بعض دفعہ ایک دو چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوتا اور بعض دفعہ اس سے بھی بہت کم یہاں تک کہ تیز رفتاری سے یہ پیدا ہوتے ، جوان ہوتے اس عرصے میں نشو ونما پاتے اور مر جاتے ہیں تو ان کی نشو و نما کی رفتار چکر چھوٹے ہونے کی وجہ سے غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے انسانی جسم پہ قبضہ کرتے ہیں۔تو ہر حرکت کے اندر، ہر دن کے اندر کچھ اور حرکتیں ہورہی ہیں، ہمارے طبع کے اندر جن کا