خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 275

خطبات طاہر جلد ۶ 275 خطبہ جمعہ ۷ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔کئی ایسے دوست ہوتے ہیں اس دنیا میں بھی جو ہر وقت دوستوں کی ضرورت پر دھیان رکھتے اور ہمیشہ اس دھیان میں فکر مند رہتے ہیں۔جب بھی ملتے ہیں آپ کی خاطر آپ کو ملتے ہیں۔آپ سوچیں کہ اگر کبھی ان کو ضرورت پڑے تو کیا آپ کے دل میں ان کے لئے بے اختیار محبت کا جذ بہ نہیں موجود ہو گا ؟ کیا آپ کے دل میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے آمادگی نہیں پائی جائے گی۔یقینا انسانی قدریں اگر آپ میں زندہ ہیں تو یہی آپ اس سے سلوک کریں گے بلکہ آپ کوشش کریں گے کہ آپ بھی اس پر نظر رکھیں ، اس کی ضرورت پر نظر رکھیں کیونکہ آپ جانتے ہوں گے کہ اس نے مجھ سے کچھ نہیں کہنا۔تو بعض بندے اسی طرح مجسم دعا بن جایا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس وقت خدا ان پر نظر رکھنے لگتا ہے۔دعا منہ سے اٹھنے سے پہلے خدا ان کی ضرورتوں پر نگاہ کرتا ہے، جب وہ سورہے ہوتے ہیں تو وہ ان کے لئے جاگ رہا ہوتا ہے، جب وہ دشمن سے غافل ہوتے ہیں تو وہ دشمن پر نگاہ کر رہا ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے معاملے میں خدا تعالٰی کے ساتھ راست بازی کا معاملہ کیا اور وفا کوانتہائی مقام تک پہنچا دیا۔خدا سے بڑھ کر کوئی وفادار نہیں، خدا سے بڑھ کر کوئی راست بازی کا معاملہ کرنے والا نہیں۔آپ ایک دفعہ خدا سے اس قسم کا معاملہ کریں خدا دس دفعہ ہزار دفعہ ان گنت دفعہ اسی قسم کا معاملہ اس سے بہت بڑھ کر شان کے ساتھ آپ سے کرتا چلا جائے گا۔تو تقویٰ کا سودا تو حاصل کا سودا ہے زیاں کا کوئی تصور اس سودے میں نہیں پایا جا تا۔حاصل ہی حاصل ہے کچھ بھی آپ گنوا نہیں سکتے جتنا آپ کھوتے چلے جائیں گے بظاہر اس سے بے انتہا زیادہ آپ کو عطا ہوتا چلا جائے گا۔اس لئے بجائے اس کے کہ خشک نصیحتوں کے ذریعے ، نظام جماعت کی مسلسل کوشش اور محنت کے ذریعے ہم یہ انتظار کریں کہ کب آپ کی حالتیں بدلیں ، کب آپ روحانی لحاظ سے دینی لحاظ سے ترقی کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچیں کہ باقی دنیا کے لئے بھی روشنی کا منار بن جائیں۔میں نے یہ سوچا کہ یہ نسخہ آپ کو دوں جو معا کام کرتا ہے جو پھل کے لئے سالوں کا انتظار نہیں کیا کرتا۔اس بوڑھے کے درخت کی طرح ہو جاتا ہے جس نے مدتوں اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ کب یہ درخت جوان ہو کب وہ جوان ہو اور پھر اس کو پھل لگیں بلکہ جیسا کہ آپ نے بارہا اس واقعہ کو سنا ہو گا کہ ایک