خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد ۶ 274 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۸۷ء چکا ہوں آرِنَا مَنَاسِگنا ہمیں ہماری قربان گاہیں دکھا! وہ مواقع عطا فرما کہ ہم تیری خدمت کریں اور پھر لطف محسوس کریں گے کہ ہاں ہم بچے تھے اپنے عہد میں سچے تھے۔یہ وہ مقام ہے جو مستقل خدا کے ساتھ رہنے کا مقام ہے جس کے بعد برائیاں خود بخود جھڑتی ہیں وہاں رہ نہیں سکتیں۔دیکھیں اگر آپ بیماری کی حالت میں ہوں گے تو اس وقت جسم کا رد عمل اور طرح کا ہوتا ہے جب آپ صحت کی حالت میں ہوں تو جسم کا رد عمل اور طرح کا ہوا کرتا ہے۔ایک پھوڑا اگر ابھی کچا ہو، زخمی ہو ایک بچہ اسے جتنا چاہے چھیلتا چلا جائے وہ کھرنڈ اس پہ پھر آنا ہی آنا ہے وہ آتا چلا جائے گا۔وہ چھیلتا چلا جائے گا وہ کھرنڈ آتا چلا جائے گالیکن اگر وہ بھر جائے اگر اس مقام کو صحت نصیب ہو تو آپ چھیلیں نہ چھیلیں وہ کھرنڈ جسے ہم پنجابی میں کہتے ہیں وہ اوپر ایک ڈھکنا سا بن جاتا ہے وہ خود بخود اتر جاتا ہے آپ چاہیں بھی اس کو روک کے رکھیں تو نہیں روک کے رکھ سکتے۔گناہوں اور صحت مند بدن کی ایسی ہی مثال ہے۔خدا کی محبت وہ صحت بخشتی ہے وہ تقویٰ عطا کرتی ہے جس کے نتیجے میں زخم مندمل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور گناہوں کے چھپر خود بخود جسم کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔آپ چاہیں بھی تو وہ چمٹ نہیں سکتے کیونکہ آپ کا بدن ان کو چھوڑ رہا ہے ان کو مزید چمٹنے کی اجازت نہیں دیتا اور بغیر کسی تکلیف کے بلکہ خوشی اور لذت کے احساس کے ساتھ گناہ جھڑتے ہیں۔پس سب سے آسان، سب سے زیادہ مفید ، سب سے زیادہ دیر پا بلکہ سب سے زیادہ وفادار ہمیشہ ساتھ رہنے والا نسخہ یہی نسخہ ہے کہ محبت پر بنا کرنے والا تقومی حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ سے پیار کریں اور اس کے وفادار بندے بہنیں۔اس وقت خدا کی خدمت میں حاضر ہوں جب آپ کو کوئی طلب نہ ہو اور کوئی تمنا نہ ہو کچھ مانگنے کی خواہش نہ ہو۔اگر اس وقت آپ خدا کی ضرورت کے لئے فکر مند ہوں گے اور خدا کے دین کے لئے اپنے آپ کو مستعد پائیں گے تو سوچیں تو سہی کہ آپ کا دوست جو آپ سے اس طرح کا سلوک کرتا اس کے لئے آپ کیا جذ بہ محسوس کرتے ہیں۔ایسے بھی بعض دوست ہوتے ہیں جو کبھی اپنی ضرورت کے لئے نہیں آتے۔وہ جب آتے ہیں آپ کی ضرورت کی خاطر آتے ہیں۔رات کو آئیں گے دروازہ کھٹکھٹائیں گے کہ شور کی آواز سنی تھی ہمیں خیال پیدا ہوا کہ کہیں کوئی دشمن تو نہیں آیا، کوئی چور تو نہیں آیا، بچے کی آواز آئی تھی اس کو تکلیف تو نہیں ہمیں حکم دیں ہم