خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 273
خطبات طاہر جلد ۶ 273 خطبہ جمعہ ۷ اسر ا پریل ۱۹۸۷ء ہوتے۔نماز کے لئے کہا جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے کیا ہر وقت ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے۔برائیوں سے روکا جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں دین دین ہر وقت لگایا ہوا ہے اپنا کام کرے ہر معاملے میں دخل اندازی۔چندہ مانگا جاتا ہے تو کہتے ہیں ان کو تو چندوں کی پڑی ہوئی ہے اور ہوش ہی کوئی نہیں۔در حقیقت اس حدیث کے مطابق آپ ہر دفعہ ایک ادنی معمولی نظر آنے والے بندے کو نہیں ٹھکرا رہے ہوتے بلکہ خدا کو ٹھکرارہے ہوتے ہیں اور پھر توقع رکھتے ہیں کہ جب آپ خدا کو اپنی مدد کے لئے بلائیں تو وہ دوڑتا ہوا غلاموں کی طرح آپ کے سامنے حاضر ہو جائے۔تو خدا نہ ہوا وہ تو اللہ دین کا جن بن گیا جب بھی لیمپ کو رگڑا اسی وقت وہ جن حاضر ہوا اور اس نے کہا جو کام مجھ سے کروانا ہے کروالو۔اللہ تعالیٰ کی عظمت کو پہچا نہیں اور اس سے پیار کا تعلق اس وقت قائم کرنے کی کوشش کریں جب خدا کو آپ کی ضرورت ہے۔وہ پیار کا تعلق ایسا ہے جو خدا کبھی نہیں بھولتا اور وہ پیار کا تعلق ہے جو آپکی دعاؤں کو تقویت بخشتا ہے گویا کہ اس دوسری حالت سے جس قدر جلد ممکن ہو تیسری حالت میں داخل ہو جائیں یعنی ہر وقت خدا کی محبت میں زندہ رہنا سیکھ لیں، ہر وقت آپ کی نگاہ اس بات پر لگی رہے کہ میں کس طرح اپنے آقا کو خوش کروں۔مجھے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو میں ایسی حالت میں ہر وقت اپنے آپکو پاؤں کہ گویا خدا کی ضرورتوں کے تلاش میں ہوں۔میں اپنے نفس کو اس طرح پیش کروں کہ اے خدا ! مجھے تو اس بات میں لطف آتا ہے کہ تیرے دین کی یا تیرے بندوں کی کوئی ضرورت ہو اور میں تیری خاطر اُسے پورا کر رہا ہوں۔اس مقام کو قرآن کریم ابراہیمی مقام کہتا ہے۔یہی مقام ہے جب ترقی کرتا ہے تو محمد یت کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے جس کے اوپر پھر کوئی مقام نہیں۔تو آپ ابراہیمی مقام سے سفر شروع کریں۔جب خدا نے کہا أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقره :۱۳۲) اے ابراہیم ! اپنے آپ کو میرے سپرد کر دے میرا ہو جا تو عرض کیا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِيْنَ اے خدا! میں تو پہلے ہی تیرا ہو چکا ہوں۔میں تو پہلے بھی تیرا ہوں۔اس لئے اس کے سوا اور میں کیا کر سکتا ہوں۔پھر عرض کیا رَبَّنَا اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا (البقره: ۱۲۹) اے خدا! تیرا تو ہوں لیکن کچھ قربانیاں تو لے ہم سے ، قربانی کرنے کا لطف تو آئے ، یہ یقین تو دل میں ہو کہ ہاں میں واقعہ تیرا ہو