خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 272
خطبات طاہر جلد ۶ 272 خطبہ جمعہ ۷ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء پانی کا محتاج ہوں۔کیسے ممکن ہے کہ تو نگا ہو اور مجھ ننگے بدن کے پاس مجھ سے کپڑے مانگے کے لئے آئے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہاں ایسا ہی تھا جب میرا بھوکا بندہ تیرے پاس حاضر ہوا ، بھوک سے بے تاب تھا وہ میں ہی تھا جو تیرے پاس بھوک مٹانے کے لئے آیا تو نے میرے بندے کی پرواہ نہیں کی ، تو نے مجھے رد کر دیا۔جب میرا پیاسا بندہ تیری خدمت میں حاضر ہوا پیاس مٹانے کے لئے تجھ سے درخواست لے کر اور تو نے اُسے پانی نہ پوچھا تو وہ گویا میں ہی تھا، میں تیرے پاس آیا تھا تو نے مجھے پانی نہ پوچھا اور جب میرانگا بندہ کوئی سردیوں میں ٹھٹھر تا ہو یا چلچلاتی دھوپ میں بے قرار ہوتا ہوا تیرے پاس آیا مجھے تن ڈھانپنے کے لئے کچھ دے دو اور تو نے اسے کچھ نہیں دیا تو وہ میں ہی تھا۔(مسلم کتاب البر والصلہ حدیث نمبر :۴۶۶۱) اس حدیث میں بہت گہرائی ہے، حیرت انگیز وسعت ہے۔اس کے ذریعے آپ خدا سے اپنے معاملات کو پر کھ سکتے ہیں اور نئی قرب کی راہیں اس حدیث سے آپ تلاش کر سکتے ہیں اور باتوں کے علاوہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جتنا آپ کو خیال ہے اس سے بہت زیادہ خدا کو آپ سے پیار ہے۔ایک بھوکے بندے کو اپنا آنا کہہ دینا یہ بتاتا ہے کہ ہر بھو کے پر خدا کی نظر ہے لیکن چونکہ یہ آزمائش کی دنیا ہے، اس وقت خدا اپنے بنائے ہوئے نظام کو تو ڑتا نہیں لیکن توقع رکھتا ہے کہ خدا کے دوسرے بندے خدا کے کمزور اور محتاج بندوں کی ضرورتیں پوری کریں گے اور جب وہ نہیں کرتے تو جس طرح آپ کو تکلیف پہنچتی ہے محتاجی کی نگاہ سے کسی کو دیکھنے کی سوال کی نظر کسی پر ڈالنے کی اور پھر رد ہو جانے کی اسی طرح خدا اس تکلیف کو اپنی تکلیف بنالیتا ہے۔کتنا حیرت انگیز کتنا عظیم الشان کتنا رؤف و رحیم خدا ہے جو اپنے ہر حقیر اور ذلیل بندے پر اس طرح پیار کی نظر رکھتا ہے اور اس کے مقابل پر پھر اس سے مستقل مسلسل بے اعتناعی کرتے چلے جانا گویا کہ وہ ہے ہی نہیں۔اگر ہے تو صرف ہماری ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اور ہماری منشاء کے مطابق ہم سے سلوک کرنے کے لئے ہے، کتنا بڑا ظلم ہے ہے۔پھر آپ جب خدا کی ضرورتیں پوری نہیں کرتے تو ان معنوں میں پوری نہیں کرتے کہ خدا کے بندوں کی ضرورتیں پوری نہیں کرتے ، خدا کے دین کی ضرورتیں پوری نہیں کرتے۔جب آپ سے وقت مانگا جاتا ہے آپ وقت نہیں دیتے ، جب اچھے کاموں کی طرف بلایا جاتا ہے آپ حاضر نہیں