خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 23
خطبات طاہر جلد ۶ 23 23 خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۷ء ہوتی چلی جارہی ہے۔کبھی دن چھوٹا ہوتا ہے تو چھوٹا ہوتا چلا جارہا ہے اور بہت ہی کم ایسی جگہیں ہیں جہاں دن اور رات حسابی طور پر برابر قرار دیئے جاسکیں۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ حسابی طور پر سو فیصدی ان کو بھی برابر نہیں کہا جاسکتا اور ان کے برابر ہونے میں بھی پھر کچھ نشانات ہیں۔تو ایک اور مضمون اس میں داخل ہو گیا۔جہاں برابر ہوں گے دن اور رات وہاں بھی کچھ حکمتیں اس کے پیش نظر ہیں ان پر غور کرو۔تو ہمارا وقت دن اور رات کی حیثیت سے بھی گھوم رہا ہے اور سال کی حیثیت سے بھی گھوم رہا ہے۔اس میں جو بہت سے نشانات ہیں اولوالالباب کے لئے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں غور کرتے رہنا چاہئے کہ اس کا فلسفہ کیا ہے۔اور وقت کو ہم کیسے سمجھیں ، ان اشاروں کے نتیجے میں جو قرآن کریم نے ہمارے لئے اس موقع پر واضح فرمائے ہیں۔ایک بچے کو آپ ایک پہیہ پر گھومتے دیکھتے ہیں ، نمائشوں میں، پاکستان میں ، ہندوستان وغیرہ میں ، افریقہ کے ممالک میں بھی ، چھوٹے چھوٹے میلوں میں اور چیزیں ہوں نہ ہوں یہ پہیہ ضرور آپ کو نظر آئے گا۔اتنا شوق ہوتا ہے بچوں کو پہیہ پر گھومنے کا۔کبھی اس کی حرکت عمودی ہوتی ہے، کبھی زمین سے متوازی ہوتی ہے، یعنی یوں گھومتا ہے، بہر حال پہیہ پر بیٹھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور جتنی اس کی رفتار تیز ہوا تنا زیادہ بچہ Excite ہوتا ہے۔جتنا ست رفتار ہو جائے پہیہ اتنا وہ بور ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کو کھڑا ہوا محسوس ہو تو وہ فورا اس پہیہ سے اتر جائے گا۔ہماری زمین کی جو حرکت ہے وہ ایک پہیہ کی طرح ہے اور اس پہیہ کی حرکت میں اور اس بچے کے پہیہ کی حرکت میں کیا چیزیں ملتی جلتی ہیں، کیا فرق ہیں ان پر اگر آپ غور کریں تو وقت کے متعلق کچھ نئے نئے مضامین بھی آپ کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔بچے کو Excitement یعنی اس کے اندر جو طبیعت میں ہیجان پیدا ہوتا ہے اس کا تعلق رفتار کے حساب سے ہے اور اگر اس کو رفتار کا احساس نہ رہے تو وہ ہیجان پیدا نہیں ہوگا۔چنانچہ زمین اس سے بہت زیادہ تیز رفتاری سے گھوم رہی ہے جس تیز رفتاری سے وہ پہیہ گھومتا ہے یا گھوم سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ تیز رفتار جس پر ایک دفعہ میں بھی بیٹھا تھا۔پہیہ تو نہیں ہے وہ ایک Space Ride کہتے ہیں امریکہ میں ، وہ تین سومیل فی گھنٹہ کی رفتار سے وہ چیز حرکت کر رہی تھی وہ سو فیصدی بیضوی نہیں تھی، لیکن اس میں بڑی Excitement تھی۔تو زمین جو خدا تعالیٰ نے