خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 22
خطبات طاہر جلد ۶ 22 خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۷ء وقتی طور پر تو وقت نے قبضہ کیا لیکن مضمون آج کا میرا یہ ہے کہ آپ وقت پر قبضہ کریں، وقت کو اپنے او پر قبضہ نہ کرنے دیں۔یہ آیات کریمہ جو میں نے چنی ہیں آج کے لئے ، اس میں وقت کے مضمون پر بڑی گہری روشنی ڈالی گئی ہے۔وہ امور جن میں اللہ تعالیٰ کے صاحب عقل و فہم بندوں کے لئے نشانات ہیں ان میں سے ایک یہ امر بیان فرمایا گیا ہے وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ کہ رات اور دن کے بدلنے میں جہاں تک عمومی طور پر اس آیت کے ترجے کا تعلق ہے یہی ترجمہ پڑھایا بھی جاتا ہے اور عام طور پرلوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ صبح کے رات ہو جانے اور رات کے صبح ہو جانے میں حالانکہ اختلاف کا لفظ صرف اس طرف متوجہ نہیں کرتا بلکہ رات کے اندر جو اختلافی حالتیں پائی جاتیں ہیں اس طرف بھی اشارہ ہے اور دن کے اندر جو اختلافی حالتیں پائی جاتی ہیں اس طرف بھی اشارہ ہے۔اندرونی طور پر بھی اختلافات ہو رہے ہیں رات کے اندر اور اندرونی طور پر بھی اختلافات ہورہے ہیں دن کے اندر اور یہ ایک بالکل الگ مضمون ہے جس پر غور کریں تو خدا تعالیٰ کی صاحب فہم قوموں کے لئے اس میں بڑے نشانات ہیں۔کس طرح راتیں دنوں میں تبدیل ہوا کرتی ہیں۔کس طرح دن راتوں میں بدل جاتے ہیں؟ وہ کیا محرکات ہیں کیا موجبات ہیں ؟ اور ان کی طرف اگر غور کریں صاحب فہم لوگ تو وہ معلوم کریں گے کہ یہ سارا کھیل عبث نہیں ، باطل نہیں اور ہم اس بات میں خدا کے ہاں جوابدہ ہیں کہ ہم نے اپنی راتوں کو کس طرح دنوں میں تبدیل کیا اور کس طرح ہم نے اپنے دنوں کو راتوں میں بدلا مگر یہ بہر حال ایک بہت ہی دلچسپ اور تفصیلی مضمون ہے جو آج کے موضوع سے براہ راست متعلق نہیں، ہے تو سہی مگر اس حصے پر میں نے توجہ نہیں دینی آج، ایک اور حصے کے لئے آپ سے آج میں مخاطب ہوں۔دوسرا اس میں دن اور رات کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا مضمون بھی ہے۔کبھی دن چھوٹے ہو جاتے ہیں، کبھی راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں اور جہاں تک وقت کا تعلق ہے وقت کو انسان ان دو ہی پیمانوں سے ناپتا ہے۔دن کے رات ہونے کے نتیجے میں اس کو وقت کا احساس ہوتا ہے، اس کی تبدیلی کا احساس ہوتا ہے۔رات کے دن ہونے کے نتیجے میں اس کو وقت کی تبدیلی کا احساس ہوتا ہے اور پھر دورانی طور پر وقت کا ہر پیمانہ بدل رہا ہوتا ہے۔کبھی رات چھوٹی ہو رہی ہے تو چھوٹی