خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد ۶ 248 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء غلام چاہئیں جومحمد رسول اللہ ﷺ اور خدا کے غلام ہوں۔واقفین زندگی چاہئیں کثرت کے ساتھ اور ہر طبقہ زندگی کے ساتھ واقفین زندگی چاہئیں۔ہر ملک سے واقفین زندگی چاہئیں۔اس سے پہلے جو ہم تحریک کرتے رہے ہیں بہت کوشش کرتے رہے لیکن بعض خاص طبقوں نے عملاً اپنے آپ کو وقف زندگی سے منتقلی سمجھا اور عملاً جو واقفین سلسلہ کو ملتے رہے وہ زندگی کے ہر طبقے سے نہیں آئے۔بعض بہت صاحب حیثیت لوگوں نے بھی اپنے بچے پیش کئے لیکن بالعموم دنیا کی نظر میں جس طبقے کو بہت زیادہ عزت سے نہیں دیکھا جا تا درمیانہ درجہ کا غریبانہ جو طبقہ ہے اس میں سے وہ بچے پیش ہوتے رہے۔اس طبقے کے ان واقفین زندگی کا آنا ان واقفین زندگی کی عزت بڑھانے کا موجب ہے عزت گرانے کا موجب نہیں لیکن دوسرے طبقے سے نہ آنا ان طبقوں کی عزت گرانے کا ضرور موجب ہے۔پس میں اس پہلو سے مضمون بیان کر رہا ہوں ہرگز کوئی یہ غلط ہی نہ سمجھے نعوذ بالله من ذالک جماعت محروم رہ جائے گی اور جماعت کی عزت میں کمی آئے گئی اگر ظاہری عزت والے لوگ اپنے بچے وقف نہ کریں۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان خاندانوں کی عزتیں باقی نہیں رہیں گی جو بظاہر دنیا میں معزز اور خدا کے نزدیک وہ خود اپنے آپ کو آئندہ ذلیل کرتے چلے جائیں گئے اگر خدا کے حضورانہوں نے اپنے بچے پیش کرنے کا گر نہ سیکھا اور یہ سنت انبیاء ہے۔انبیاء کے بچوں سے زیادہ معزز بچے اور کوئی بچے دنیا میں نہیں ہو سکتے۔انہوں نے اس عاجزی سے وقف کئے ہیں اس طرح منتیں کر کے وقف کئے ہیں، اس طرح گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے ، روتے ہوئے وقف کئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ان کو دیکھ کر۔پس اگلی صدی کو شدید ضرورت ہے کہ جماعت کے ہر طبقے سے لکھوکھا کی تعداد میں واقفین زندگی ایک صدی کے بعد ہم دراصل خدا کے حضور تحفہ پیش کر رہے ہوں گے لیکن استعمال تو اس صدی کے لوگوں نے کرنا ہے بہر حال۔یہ تحفہ ہم اس صدی کو دینے والے ہیں اس لئے جن کو بھی توفیق ہے وہ اس تحفے کے لئے بھی تیار ہو جائیں ہو سکتا ہے اس نیت کی اس نذر کی برکت سے بعض ایسے خاندان جن میں اولاد نہیں پیدا ہورہی اور ایسے میاں بیوی جو کسی وجہ سے اولاد سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ اس قربانی کی روح کو قبول فرماتے ہوئے ان کو بھی اولا ددے دے۔