خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد ۶ 247 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء گی کہ اے خدا جو نعمت تو نے مجھے دی ہے وہ میری اولاد کو بھی دے اور ان میں بھی انعام جاری فرما۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رنگ میں دعا کی لیکن حقیقت میں اگر آپ غور کریں تو جو انعام مانگا جارہا ہے وہ وقف کامل ہے۔کامل وقف کے سوانبوت ہو ہی نہیں ہوسکتی اور سب سے زیادہ بنی نوع انسان سے آزاد یعنی محر ر اور خدا کی غلامی میں جکڑا جانے والا نبی ہوتا ہے۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ دعا کرتا ہے کہ میری اولا د میں نبوت کو جاری فرما تو اس دعا کا حقیقی معنی یہ ہے میری اولا د کو ہمیشہ میری طرح غلام در غلام در غلام بنا تا چلا جا۔اپنی محبت میں اپنی اطاعت میں جکڑتا چلا جا اتنا کامل طور پر جکڑ لے کہ دنیا میں کوئی آزادی کا پہلو نہ رہے۔تو محررًا کے مقابل پر دنیا سے آزاد کر کے میں تیرے سپرد کرتی ہوں۔یہ مضمون اور بھی زیادہ بالا ہے وقف کا کہ میری اولا د کو تو اپنی غلامی میں جکڑ لے اور کوئی پہلو بھی آزاد نہ رہنے دے۔بہر حال یہ بھی ایک پہلو ہے کہ جو کچھ تھاوہ تو دیا خدا کی راہ میں لیکن جوابھی ہاتھ میں نہیں آیا وہ بھی پیش کرنے کی تمنار کھتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی چلہ کشی کی تھی اس مضمون میں چالیس دن یہ گریہ زاری کرتے رہے دن رات کہ اے خدا! مجھے اولا د دے اور وہ دے جو تیری غلام ہو جائے۔میری طرف سے تحفہ ہو تیرے حضور۔پس میں نے یہ سوچا کہ ساری جماعت کو میں اس بات پر آمادہ کروں کہ انگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے جہاں روحانی اولا د بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔دعوت الی اللہ کے ذریعے وہاں اپنے آئندہ ہونے والے بچوں کو خدا کی راہ میں ابھی سے وقف کر دیں اور یہ دعامانگیں کہ اے خدا! ہمیں ایک بیٹا دے لیکن اگر تیرے نزدیک بیٹی ہی ہمارے لئے مقدر ہے تو ہماری بیٹی ہی تیرے حضور پیش ہے۔ما في بطنی جو کچھ بھی میرے بطن میں ہے یہ مائیں دعائیں کریں اور والدین بھی ابراہیمی دعائیں کریں کہ اے خدا! انہیں اپنے لئے چن لے اور اپنے لئے خاص کرلے تیرے ہو کر رہ جائیں اور آئندہ صدی میں ایک عظیم الشان بچوں کی فوج ساری دنیا سے اس طرح داخل ہورہی ہو کہ وہ دنیا سے آزاد ہو رہی ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خدا کے غلام بن کے اس صدی میں داخل ہو رہی ہو۔چھوٹے چھوٹے بچے ہم خدا کے حضور تھے پیش کر رہے ہیں اور اس کی شدید ضرورت ہے آئندہ سوسالوں میں جس کثرت سے اسلام نے ہر جگہ پھیلنا ہے وہاں لاکھوں تربیت یافتہ