خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 246
خطبات طاہر جلد ۶ 246 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء کو بتانے پر پابند فرما دیا آنحضرت ﷺ کو۔ورنہ یہ بتاتے تو لوگوں کو پتا چلتا اتنا حسین ہے اس شان کا نبی جو اس قدر منکسر المزاج ہو۔اس کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے حسن پر پردے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنی کمزوریاں کو چھپاتا نہیں اور یہی بنیادی فرق ہے۔مادہ پرست اور خدا پرست میں ، مادہ پرست اپنی کمزوریوں پر پردے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنے معمولی سے حسن کو بھی اچھالتا اور دکھا تا اور اس کی نشو و نما کرتا ہے اور پلیٹی اس کی زندگی کے ہر شعبے کا ایک جزولا ینفک بن جاتی ہے۔تو خدا تعالی نے حکماً رسول اکرم ﷺ کو پابند فرمایا کہ تیری بعض خوبیاں جو میری نظر میں ہیں تیرے غلاموں کا بھی حق ہے کہ ان کو پتا چلے اس لئے کہ تا وہ تمہاری پیروی کر کے مجھ تک پہنچنا سیکھ جائیں۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ اپنا سب کچھ دے دو۔چنانچہ انبیاء کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دینے کی خاطر یہ سوچتے سوچتے کہ ہم اور کیا دیں اور کیا دیں، اپنی اولادیں بھی پیش کرتے ہیں اور بعض دفعہ ابھی اولاد پیدا بھی نہیں ہوتی تو پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ابرار کی یہ سنت ہے انبیاء کے علاوہ۔جیسے حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ نے یہ التجاء کی خدا سے:۔رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِى مُحَرَّرً ا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ( آل عمران : ۳۶) لوج إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ کہ میرے رب جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے میں تیرے لئے ہے پیش کر رہی ہوں نہیں پتا کیا چیز ہے لڑکی ہے یالڑ کا ہے۔اچھا ہے یا برا ہے مگر جو کچھ ہے وہ سب کچھ تمہیں دے رہی ہوں تو فَتَقَبَّلُ مِنی مجھ سے قبول فرما إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِیم تو بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔وہ سنتا ہے اور علم رکھتا ہے اس کا اس مضمون کا الگ تعلق ہے اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے مگر بہر حال یہ دعا حضرت مریم کی والدہ جو آل عمران سے تھیں کی خدا تعالیٰ کو ایسی پسند آئی جسے قرآن کریم میں آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا اور پھر حضرت ابرا ہیم کی دعا اپنی اولاد کے متعلق اور دوسرے انبیاء کی دعائیں اپنی اولاد کے متعلق یہ ساری قرآن کریم نے محفوظ فرما دیں۔بعض جگہ آپ کو ظاہر طور پر وقف کا مضمون نظر نہیں آئے گا جیسا کہ یہاں آیا ہے مُحَرَّرًا اے خدا! میں تیری راہ میں اس بچے کو وقف کرتی ہوں لیکن بسا اوقات آپ کو یہ دعا نظر آئے