خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد ۶ 239 خطبہ جمعہ ۳ را پریل ۱۹۸۷ء کو انسان سے ملتی جلتی کوئی شکل نظر آنی چاہئے جس کے نتیجے میں وہ اس سے محبت کرے۔ چنانچہ ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت ا ایک دفعہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے صلى الله وہاں کچھ لوگ بتوں کو سجا رہے تھے انہیں بندے پہنا رہے تھے انہیں کھڑا کر کے اور ان کے اوپر لباس چڑھا رہے تھے اور پھر یہ خود ہی ان کو سجا کر ان کے سجدے کر رہے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا حرکتیں کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا دیکھو! ہم اس لئے ان کی عبادت کرتے ہیں ان سے پیار کرتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا کا پیار سکھاتے ہیں پھر اور ان کے پیار کے ذریعے ہمیں اللہ کا پیار حاصل ہوتا ہے، مقصد تو وہی ہے جو تم باتیں کر رہے ہو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کہ کتنی بیوقوفی بتوں سے تم کس طرح خدا کا پیار سیکھ سکتے ہو۔ وہ تو نہ پیروی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں نہ ان کی پیروی کی کا جاسکتی ہے۔ خدا کا پیار تو اس سے سیکھا جا سکتا ہے جسے خدا نے خود اپنا پیار سکھایا ہو۔ پس چونکہ مجھے خدا نے اپنا پیار سکھا دیا ہے اسی لیے تم میری پیروی کرو، اگر یہی تمہارا دعویٰ ہے تو پھر بتوں کی پیروی سے خدا کا پیار تو نہیں آسکتا۔ ایک اور موقع پر خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی محبت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے یا صلى پیروی کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ کہہ دے اے میرے بندو! ( یہ لفظی ترجمہ ہے اے میرے بندو!) اور محمد مصطفی ﷺ کو کہا جار ہا کہ اعلان کرو بنی اورمحمدمصطفی کو نوع انسان سے کہہ دواے میرے بندو! بعض تفسیر کرنے والے بڑے مشکل میں، الجھن میں پڑ گئے کہ آنحضرت ﷺ کو تو حید کامل کا پیغام لے کر آئے خدا آپ کو یہ سکھا رہا ہے کہ کہواے میرے بندو۔ صلى d حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر ایک سے زیادہ مرتبہ لکھا اور بہت ہی لطیف تفسیر فرمائی ہر موقع پر۔ ایک موقع پر آپ فرماتے ہیں یہاں عبادی سے مراد غلام ہے مخلوق نہیں ہے ۔ قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ سے مراد یہ ہے کہ اے محمد ! یہ اعلان کر کہ اے میرے غلامو! تو پیروی کا مضمون تفسیری زبان میں ہمیں سکھایا جا رہا ہے یہاں۔ جب خدا کہتا ہے اس کا فَاتَّبِعُونِی اس کا اعلان کرو تو مراد یہ ہے کہ میرے غلامانہ عاشق ہو جاؤ ۔جس طرح غلام آقا کی پیروی کرتا ہے اور اس پیروی سے فعل میں انحراف کی طاقت نہیں پاتا۔ تو ایسی کامل