خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد ۶ 237 خطبہ جمعہ ۳ اپریل ۱۹۸۷ء صلى اور رقابت کی اجازت ہوتی تو جتنے خدا کے محبت کرنے والے تھے، اتنے ہی تعداد میں خدا کی خدائی کے تصور بٹ جاتے۔امت واحدہ کے پیدا ہونے کا سوال ہی باقی نہ رہتا۔ہر خدا سے محبت کرنے والا ، دوسرے خدا سے محبت کرنے والے سے جل رہا ہوتا ، حسد کر رہا ہوتا نفرت کر رہا ہوتا کہ وہ کون ہوتا ہے اس خدا سے محبت کرنے والا جس سے میں کر رہا ہوں۔یہ جہالت کا عشق تو صرف دنیا کے لئے خدا نے رہنے دیا۔اپنے لئے وہ عشق چنا جو وحدت کاملہ پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور اس وحدت کا دائرہ بڑھاتا چلا جارہا ہے۔یہ وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے محبت کی تعلیم اس رنگ میں خدا تعالیٰ نے دی اور جس وسعت کے ساتھ جس حکمت کے ساتھ باہمی رابطے کے ساتھ قرآن کریم محبت کی تعلیم ہے۔آپ جائزہ لے کے دیکھیں دنیا کے کسی اور مذہب میں آپ کو اس جیسی اتنی حسین ، اتنی کامل اتنی مضبوط تعلیم دکھائی نہیں دے گی۔آنحضرت ﷺ سے محبت پہلی بات یہ کہ کسی حکم اور جبر کی وجہ سے نہیں، اس لئے ہے کہ وہ محبت کے لائق چیز اور خدا تعالیٰ نے نشاندہی فرما دی اور گواہی دے دی کہ اس سے بڑھ کے تمہیں کیا دلیل چاہئے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اگر انسان زیادہ حسین ہو تو کم ترحسن سے محبت کرنے کے کم امکانات ہوتے ہیں۔جتنازیادہ کوئی حسین ہواتنا ہی اس کا معیارحسن بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس آنحضرت یہ حسن کی سب سے بڑی دلیل اس آیت میں رکھ دی گئی ہے کہ وہ اتنا حسین ہے کہ میں اس سے محبت کر رہا ہوں اور اتنی محبت کرتا ہوں کہ اگر تم اس کی پیروی کرو گے تم اس سے محبت کرو گے تو میں تم سے بھی محبت کرنے لگ جاؤں گا۔پس آنحضرت ﷺ میں ذاتی حسن موجود ہے اور یہ حسن جو ہے اس کا بیان ہونا چاہئے ، اس کا تذکرہ چلنا چاہئے ،اس کی مجالس ہونی چاہئیں بڑوں اور چھوٹوں کو اس سے ذاتی واقفیت ہونی ضرور چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔بن دیکھے کس طرح کسی مد رخ پہ آئے دل کیسے کوئی خیالی صنم سے لگائے دل ( درمین صفحه : ۱۱۱) پس آنحضرت ﷺ کی محبت کا جب قرآن کریم نے حکم دیا جب قرآن کریم نے احسان فرمایا ہم پر یہ بتا کر کہ ایک بہت ہی محبوب ہستی موجود ہے جس کا پیار تمہارے دل میں خدا کا پیار پیدا