خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 236

خطبات طاہر جلد ۶ 236 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء کوئی آدمی کتنا ہی پیارا ہو اس کو آپ کہیں کہ تم فلاں چیز سے محبت کرنے لگ جاؤ۔وہ آپ سے کتنا ہی پیار کرتا ہو اس سے آپ کہیں کہ فلاں چیز سے محبت کرنے لگ جاؤ۔وہ سمجھے گا کہ اس کو کیا ہو گیا ہے اس کے دماغ میں کوئی نقص ہے۔دنیا کے شاعر تو یہاں تک کہتے ہیں کہ:۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں میرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا عجیب شرطیں لگا رہا ہے کہ تم سے تو محبت کروں ساتھ ان سے بھی محبت کرنے لگ جاؤں جو تمہارے چاہنے والے ہیں۔”میرا دل پھیر دو مجھے واپس کرو میرا دل، مجھ سے یہ جھگڑا نہیں ہوسکتا ہے اور اللہ کی شان دیکھیں یہی فرما رہا ہے۔مجھے چاہو، میرے چاہنے والوں کو بھی چاہو اور اگر نہیں چاہو گے میرے چاہنے والوں کو تو تم فاسق ہو، تمہاری محبت مردود ہے۔یہ ہے اصل حکیمانہ کلام۔حقیقت میں محبت کی اعلیٰ نشانی اور اس کی سچائی کی دلیل یہ ہے کہ جس سے آقا پیار کرے اس سے بھی پیار ہو جائے اور جو اپنے محبوب سے پیار کرتا ہو اس سے بھی محبت بڑھے نہ کہ اس سے دشمنی بڑھے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو اور جگہ بھی کھول کر بیان فرمایا ایک دعا سکھائی کہ اے خدا! ہمارے دلوں میں مومنوں کے لئے غلل نہ پیدا کرنا جو ہم سے ایمان میں سبقت لے گے پہلے آگے ہم تجھ سے التجاء کرتے ہیں کہ کسی بنا پر کسی غلط فہمی کی وجہ سے بھی ان کے لئے ہمارے دل میں کوئی ٹیڑھا پن نہ پیدا کر دے۔اس آیت میں شیعہ کے غلط فلسفہ کا جواب ہے ہمیشہ کے لئے۔وہ ایسی باتیں بتاتے ہیں آج ہمیں یا ان میں سے بعض جن کے نتیجے میں ایمان میں سبقت لے جانے والوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ وہ لوگ جو سبقت لے گئے اول دور کے ایمان لانے والے تھے۔اے خدا! ہمیں ان سے نفرت نہ ہونے دینا۔غلط فہمی سے تاریخ کے غلط سمجھنے کے نتیجے میں یا غلط روایات کے پہنچنے کے نتیجے میں ہو سکتا ہے ہمارے دل میں کبھی پیدا ہو جائے اور ان کے لئے سختی پیدا ہو جائے۔تو دعا سکھائی کہ اے اللہ ! ان کے لئے ہمارے دل کو نرم رکھنا۔وجہ کیا ہے؟ وہ خدا کو چاہنے والے تھے اور وہی مضمون ہے کہ مجھے چاہتے ہو تو میرے چاہنے والوں کو چاہو۔اس کے بغیر وحدت نہیں پیدا ہوسکتی ہے یہ ہے اس کا اصل فلسفہ اگر خدا کے عشق کے نتیجے میں رقابت پیدا ہوتی