خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد 1 صلى الله علوه 232 خطبہ جمعہ ۳ را پریل ۱۹۸۷ء آنحضرت کی اتباع اور پیروی کا حکم ملا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس میں کیا منطقی جوڑ ہے اور پھر یہ پیروی کس طرح ہو سکتی ہے؟ کس رنگ میں پیروی کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ ایک انسان ایک ملک کے قانون کی بھی اطاعت کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے Instructor کی جس جس موضوع پر بھی کوئی Instructor مقررہ ہوا ہو اس کی بھی پیروی کرتا ہے اس کی نقل اتارتا ہے اور یہ دونوں قسم کی اطاعتیں محبت کے بغیر ہوتی ہیں ۔ بسا اوقات ان میں محبت کا نہیں بلکہ نفرت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ دنیا میں بڑے بڑے ظالم ڈکٹیٹر گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جن کی کروڑوں کی قومیں، کروڑوں کی تعداد میں قوم کے افراد اطاعت ا کر رہے ہیں اور نفرت کے ساتھ اطاعت کر رہے ہیں تو اگر اسی قسم کا حکم ہے جیسے ایک جابر حکم صادر کر دیتا ہے کہ تم میرے قبضہ قدرت میں ہو تمہاری مجال نہیں کہ میرے حکم کی نافرمانی کر سکواس لئے اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو پھر حمد مصطفی ﷺ کی پیروی کرو۔ کیا نعوذ بالله من ذالک یہ مضمون ہے جو بیان ہوا ہے؟ یہ مضمون ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو جس سے محبت ہواس میں ڈکٹیٹر شپ اور مغلوب کے تعلقات کا کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا ہے۔ تُحِبُّونَ اللہ کی شرط نے واضح کر دیا کہ جو کچھ بھی کرو گئے محبت کی وجہ سے کرو گے۔ صلى الله اس لئے ایک منطقی رشتہ خدا کی محبت کا ہے جسے محمد مصطفی ﷺ کی غلامی اور اطاعت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ پس اس اطاعت میں بھی محبت ہی کا پہلو غالب رہنا چا۔ چاہئے اور محبت ہی کے نتیجے میں وہ اطاعت ہونی چاہئے ۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ حکماً بھی کیا محبت ہو سکتی ہے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھ سے تمہیں محبت ہے؟ ہم کہتے ہیں ہاں ! ہمیں محبت ہے۔ ہم نے تیرا حسن دنیا میں جلوہ گر دیکھا، تیرے اتنے بے انتہا احسانات صبح ، دو پہر، شام ، رات، دن اور رات کا لمحہ لمحہ ہم تیرے فضلوں کو دیکھتے ہیں، تجھے تیرے کائنات کے حسن میں جلوہ گر د یکھتے ہوئے تجھ پہ عاشق ہوتے چلے جا رہے ہیں اور پھر ہر روز جو تو نے ہمارے لئے سامان مہیا فرمائے ہیں پیار اور محبت کے ساتھ ہر قسم کی نعمتیں عطا کیں، ہر قسم کی زندگی کے نظام کی حفاظت کے سامان بخشے، ترقیات کے قوانین ایسے بنائے جن کے نتیجہ میں مسلسل انسان آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔