خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 230

خطبات طاہر جلد ۶ 230 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء رستہ میرے لئے کھولا یہ بھی اس بات کے ثبوت کے طور پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نور عطا فرماتا ہے اور راہیں روشن کرتا ہے اور یہ انشاء اللہ ایسے رستہ ہیں جن کے نتیجے میں دور دور تک اللہ تعالیٰ آپ کے لئے ، آپ کی اولادوں کی راہیں بھی روشن کرتا چلا جائے گا اور امید ہے آئندہ خطبہ میں میں اس مضمون کو انشاء اللہ کھول کر بیان کروں گا۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج جمعہ کے بعد کچھ جنازے ہوں گے جن میں سب سے پہلے تو سیرالیون سے ایک افسوسناک خبر آئی ہے کہ ہمارے وہاں کہ ایک پرانے اور مخلص احمدی جو جماعت کے فدائی تھے : الحاج ی کمارا صاحب وہ وفات پاگئے ہیں۔ان کی نماز جنازہ غائب کی درخواست کی گئی ہے۔دوسرے ہمارے ایک مبلغ ہیں ماریشیس کے ، مکرم رفیق احمد صاحب جاویدان کے بھائی کا جنازہ ہم نے پڑھا تھا جو اچانک امریکہ میں حادثے میں وفات پاگئے تھے۔ان کے والد صاحب بھی تھوڑے عرصے کے بعد وفات پاگئے یا تو صدمے کا اثر تھا یا عمر ہوگئی تھی۔مگر بہر حال یہ دوصد مے اس خاندان کو اوپر تلے دیکھنے پڑے۔محمد لطیف صاحب سندھی دارالصدر غربی ربوہ میں رہتے تھے ان کی بھی وفات کی اطلاع ملی ہے۔تیسرا ہمارے سیکیورٹی کے افسران میں سے مبارک احمد صاحب ساہی کے خسر مکرم چوہدری رشید احمد صاحب باجوہ کی وفات کی اطلاع آئی ہے ان کی بھی نماز جنازہ ہوگی۔اور سیدہ افضل بی بی صاحبہ جو مکرم سید محمد یکی صاحب اسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ سائنس کالج فیصل آباد کی والدہ تھیں ان کی بھی نماز جنازہ ہوگی۔اس طرح آخر پر مکرم چوہدری فضل گوندل صاحب آف خانیوال کی نماز جنازہ غائب ہم پڑھیں گے۔