خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 223

خطبات طاہر جلد ۶ 223 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء ”اے میرے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور ان لوگوں کی محبت جو تجھ سے پیار کرتے ہیں اور اس کام کی محبت جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔اے میرے خدا! ایسا کر کہ تیری محبت مجھے اپنی جان، اپنے اہل وعیال اور ٹھنڈے شیریں پانی سے بھی زیادہ پیاری اور اچھی لگنے لگے۔“ وہ دعا جہاں تک ممکن ہے ہر احمدی بڑے اور بچے کو یاد کرنی چاہئے۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ دعا یاد کرنے کی تلقین بھی فرمائی اور پھر آہستہ آہستہ پڑھ کر سنائی تا کہ یاد کر لیں اور بعد میں پھر باقاعدہ جماعت کی طرف مختلف قطعات کی شکل میں چھپوا کر ہر جگہ دکانوں میں ، گھروں میں آویزاں ہونے لگی۔یہ چونکہ بہت ہی اہم اور بنیادی دعا ہے اس لئے ساری دنیا میں جماعت کو کوشش کرنی چاہئے اپنے انتظام کے تابع کہ یہ دعا سب کو یاد کر وادی جائے اللهم انی اسئلک حبک و حب من يحبك و العمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك احب الي من نفسى و اهلى ومن الماء البارد ( ترندی کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۳۴۱۲) ترجمہ اس کا میں پہلے سنا چکا ہوں بعض جگہ بعض روایتوں میں یہ دعا نسبتاً چھوٹی ہے۔ترمذی کتاب الدعوات میں درج ہے۔اس دعا میں کچھ اور باتیں بھی ہیں جو انسان کی نظر سے بالعموم میں نے دیکھا ہے کہ اوجھل ہو جاتی ہیں۔حالانکہ جو شخص محمد مصطفی ﷺ سے پیار کرتا ہو اس کی نظر سے اوجھل نہیں ہونی چاہئیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس دعا کا آغاز کیسے ہوا؟ کیا نعوذ باللہ آنحضرت میہ کا خدا اس لئے خبر دے رہا تھا کہ آپ کو پتا نہیں تھا کہ خدا کی محبت کیسے حاصل کی جاتی ہے اور کیا نعوذ باللہ حضرت داؤد کی مثال دے رہا تھا کہ داؤد سے سیکھو اگر مجھ سے محبت کرنا سیکھنا ہے۔یہ تو بالکل لغو خیال ہے۔اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔تو قرآن شریف اس مضمون کو بڑی شدت سے ٹھکرا تا ہے۔آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ سے عشق کے مقام میں اتنی بلند و بالا اور ارفع مقام پر فائز تھے کہ آپ کے اس مقام کو ساتویں آسمان سے بھی آگے گزر جانے والا دکھایا گیا ہے اور مختلف انبیاء کو جو مختلف آسمانوں پر دکھایا گیا ہے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کو خدا کا عرفان یہاں تک تھا، ان کا خدا کی محبت کا تصور یہاں تک تھا، وغیرہ وغیرہ۔ظاہری طور پر کوئی ایسے آسمان نہیں ہیں جن کو دکھایا گیا ہو۔آنحضرت ہی ہے