خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 222

خطبات طاہر جلد ۶ 222 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء کی یہ عبارت جو بارہا آپ کے سامنے پڑھی گئی ہے ایسی بے اختیار پیار اور بے ساختہ عشق کے اظہار پر مبنی ہے جو خالصہ سچائی کے سرچشمے سے پھوٹتا ہے۔اس کا کوئی بھی تعلق تصنع سے نہیں ہوتا۔فرمایا:۔”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کوئی غیر اللہ سے محبت کرنے والا ، کوئی دنیا سے پیار کرنے والا یہ فقرہ کہ ہی نہیں سکتا۔کسی ملاں کے دماغ کے کونہ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔فرماتے ہیں: ”ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا رہے ہیں۔اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملئے۔مَنْ تَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وہی مضمون ہے جو بیان فرما وو یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجو دکھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ یہ تمہیں سیراب کرے گا، یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشہری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا کہ سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه : ۲۱-۲۲) یہ جتنی بھی منازل ہیں اللہ کی محبت اور اس محبت کا اظہار سنت کے ذریعہ۔یہ خدا کی عطا کردہ توفیق کے سوانسان طے نہیں کر سکتا اور یہ مضمون بھی انہیں حضرت محمد مصطفی نے ہی سمجھایا اور یہ جو پہلا قدم اٹھانا ہے وہ کیسے اٹھے۔باقی قدم پہلے کی برکت سے خود ہی اٹھنے لگتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پہلا قدم کونسا ہے جب اچانک دل میں خدا کی محبت کا شعلہ اس طرح پیدا ہو کہ پھر اس کی پھلجھڑی کی طرح روشنیوں کا سلسلہ پھوٹ پڑے۔یہ جو مشکل ہے اس کو آسان کرنے کے لئے ت ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام یہی دعا مانگا کرتے تھے۔