خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 221
خطبات طاہر جلد ۶ 221 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء بیٹھتے ہیں جو ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللهِ ان تمناؤں، ان امیدوں میں کہ کاش! ہمیں خدا کی رضا کی جھلکیاں نصیب ہو جائیں۔ اس مضمون کے اول مخاطب حضرت اقدس محمد مصطفی تھے۔ بعض دفعہ جس طرح آپ کے لئے خدا کے پیار کی جنتیں مخفی تھیں آپ کا ذکر بھی بعض دفعہ خدا اخفا سے کرتا تھا۔ دفعہ یہ بھی پیار کا خاص اظہار ہے اور آپ کے لئے جو خفی جنتیں تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی ۔ جب اس آیت سے گزرتے ہوئے بے انتہا عشق اچھلتا ہو گا اللہ کا دل میں کہ میرے مولا نے میرا کتنے پیار سے ذکر صلى علي فرمایا، میرے متعلق یہ کہا اور یہ ہوسکتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو یہ علم نہ ہو کہ آپ کے متعلق یہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ ایسے ایسے بندے بھی ہیں میرے ، اس شان کے بندے ہیں کہ جو میری مرضی کی خاطر اپنا سب کچھ بیچ ڈالتے ہیں۔ نفس کو بیچ ڈالنے کا مطلب یہ ہے کوئی تمنا باقی نہیں رکھی۔ نہ نعمت سے کوئی دلچسپی ہے نہ آرام سے کوئی تعلق ۔ کوئی بھی خواہش نفس ایسی نہیں جو اپنے لئے وہ رکھ چھوڑیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں تو مرضی مولا کی عادت پڑ گئی ہے۔ اے مرضی مولا! تیری تمنا میں جیتے ہیں تو اپنی جھلکیاں دکھاتا چلا جا اور ہم اپنا سب کچھ تجھ پر فدا کرتے چلے جاتے ہیں۔ اصلى الله حضرت مسیح موعود علیہ اصلاۃ والسلام نے بھی جو کچھ پایا حضرت محمدمصطفی ﷺ کی سنت سے پایا اور جب ہم پڑھتے ہیں قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ تو اس مضمون کو سمجھنے کے لئے اس قسم کی آیتیں بھی تلاش کرنی چاہئیں جو اس مضمون کو کھولتی چلی جائیں گی اور قرآن کریم اس مضمون کے اظہار سے بھرا پڑا ہے۔ اس کثرت سے قرآن کریم میں ایسی آیتیں صلى الله علی پھیلی ہوئی ہیں جو اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللہ کی تشریح کر رہی ہوں اور آنحضرت ﷺ اور بعض دوسرے انبیاء کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں ۔ جن میں یہی مضمون بھرا ہوا ہے کہ اگر آپ پڑھیں اور ان پر غور کریں تو آپ کو ہر روز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تازہ رزق عطا ہوگا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیروی کے ذریعہ الله الله ہی خدا سے اپنی محبت کا اظہار کیا اور اپنے خدا سے عشق کو آنحضرت ﷺ کی سنت میں ڈھال کر اس عشق کا سچا ہونا ثابت کر دیا۔ اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے آپ کے لئے جولد تیں مخفی رکھی تھیں اپنے ذکر میں اور اپنے پیار میں اس کا اظہار آپ نے بار ہا نظم میں بھی کہا نثر میں بھی فرمایا۔ چنانچہ کشتی نوح