خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 220

خطبات طاہر جلد ۶ 220 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء لئے ہمیشہ طالب رہتے ہیں اور یہ عشق کے بغیر مکن نہیں۔عاشق سے ایسی حرکتیں سرزد ہوسکتی ہیں لیکن دوسرے شخص سے کبھی ایسا نہیں ہوسکتا اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں ایسے مشاہدات ہوتے رہتے ہیں جن کے نتیجے میں ہم خود یہ جان سکتے ہیں، تجربہ سے یہ پہچان سکتے ہیں کہ اصل راز رضا اور پیار میں ہی ہے نعمتوں میں نہیں ہے۔چنانچہ آپ میں سے بہتوں کو یہ تجربہ ہوگا کسی کے لئے کوئی بچے کے لئے مثلاً ماں باپ میں سے کوئی تحفہ لے کر آتا ہے۔بعض بچے ایسے ہوتے ہیں خواہ اپنے کسی کے ان کی زیادہ نظر تحفہ پر ہوتی ہے اور بعض بچے ایسے ہوتے ہیں جو تحفے کو ایک طرف پھینک دیتے ہیں۔پہلے جب تک اپنے پیار کا چسکا پورا نہ کر لیں، پہلے گلے سے چمٹ نہ جائیں، گودی میں کچھ دیر نہ چڑھ بیٹھیں اس وقت تک وہ تحفہ ان کے لئے ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔تحفہ دینے والا جتنا ایسے بچے کی قدر کر سکتا ہے اس کا دسواں حصہ بھی قدر دوسرے بچے کے لئے پیدا نہیں ہو سکتی جس کا تعلق تحفے کی وساطت سے ہوتا ہے اور ہمیشہ تحفے کی وساطت سے رہتا ہے۔خدا کی نعمتیں ایک تحفہ ہیں اور ان نعمتوں پر آپ جتنا غور کریں آپ کو خدا سے پیار ہوتا چلا جائے گا مگر عارف باللہ جانتے ہیں اور انہوں نے ہمیں یہ مضمون سکھایا کہ یہ تحفے رستے ہیں آخری منزل نہیں یا رستے کی عارضی منازل ہیں، وقفے ہیں۔ان کے ذریعے آگے بڑھنے کی تمنا پیدا ہونی چاہئے لیکن مقصود بالذات نہیں ہیں۔ٹھہر رہنے کی جگہ نہیں ہے۔اس لئے وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی محبت میں آگے سفر کرتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد گوان کو خدا کی نعمتوں کے ذریعے ہی خدا سے پیار پیدا ہوتا ہے لیکن نعمتیں بے معنی اور بے حقیقت دکھائی دینے لگتی ہیں اس پیار کے مقابل پر اور پھر وہ ساری نعمتیں خدا کے پیار کی خاطر لٹا دینے کو دل چاہنے لگتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم نے اس آیت میں کھول کر بیان فرمایا:۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَالله رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (بقره: ۲۰۸) کہ دیکھو ! خدا کے بندوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں مَنْ يَشْرِكْ نَفْسَهُ اپنی جان لٹا