خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد ۶ 208 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء ( آل عمران : ۹۳) کہ تم اعلی درجہ کی نیکی نہیں پاسکتے جب تک کہ اس مال میں سے خدا کے لئے خرچ نہ کرو جس مال سے تمہیں محبت ہے یعنی اس کی کمی محسوس کر رہے ہو یا بہت ہی زیادہ قدر و قیمت محسوس کر رہے ہو۔تو یہ مضمون بھی درست ہے لیکن اسی آیت سے اگلی آیت یہ بھی بتا رہی ہے کہ علی حصّہ سے مراد ہے محض خدا کی محبت کی خاطر یعنی ان کا خرچ محض اپنے جذبات کی بناء پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے نتیجے میں ہوتا تھا۔اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ( الدم :١٠) وہ جو نیکی کا خرچ ہے جس کی جڑیں انسانی دل کی تحریک میں ہوتی ہیں اس کے نتیجے میں طبعا انسان جزا اور شکر چاہتا ہے اور اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ جتنا زیادہ کوئی احسان کرتا ہے اتنی زیادہ توقع رکھتا ہے کہ کوئی احسان مند ہو۔لیکن قرآن کریم نے اور اس کی روشنی میں حضرت اقدس محمد مصطفی میہ نے مومن کی زندگی کا ہر پہلو خدا کی محبت کی طرف موڑ دیا اور انسانی فطرت سے گویا جڑیں نکال کر جس طرح پنیری لگانے والا ایک دوسری زمین میں پنیری لگاتا ہے اس طرح خدا کی محبت میں ہر انسانی سکون اور ہر انسانی حرکت کی پنیری لگا دی۔وہ روز مرہ خرچ کرنے والے آپ کو دکھائی دیں گے جو بسا اوقات آپ سے بہت زیادہ خرچ کرتے ہوئے دکھائی دیں گے لیکن ان کے خرچ کے محرکات اور ان کی وجوہات اور خرچ کے بعد کے ان کے انداز اور اُن کی توقعات اور لیکن محمد مصطفی امیہ نے جو سوسائٹی پیدا کی ان کے متعلق خدا گواہی دے رہا ہے کہ دل کے جذبات کے ساتھ انہوں نے اپنی نیکیوں کا تعلق توڑ کے خدا کی محبت میں ان کی جڑیں گاڑ دیں۔ہر چیز پر خدا کی محبت غالب آگئی تھی۔فرمایا وہ پھر کہتے ہیں ہم تمہیں بتا رہے ہیں اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ ہم تمہیں بتا رہے ہیں ہمارا تم پر کوئی احسان نہیں کہیں سادگی سے یہ نہ سمجھ لینا کہ تم ہمارے احسان کے نیچے آ گئے ہو اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ اللہ کے چہرے کی خاطر ہم کر رہے ہیں، اس کے پیار کی خاطر کر رہے ہیں۔اس لئے ہماری جزاء وہ دے گا وہ ہم سے پیار کرے گاتم پر ہمارا کوئی احسان نہیں ، نہ ہم کوئی جزا چاہتے ہیں نہ تم سے کوئی شکر چاہتے ہیں۔پس آنحضرت ﷺ نے پوشیدہ صدقے کے اوپر زور دے کر اس مضمون کو کھول دیا ہے کہ