خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد ۶ 207 خطبه جمعه ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء کانوں کان خبر نہ ہو کہ کس طرح تم نے خدا کی راہ میں خرچ کر دیا ہے۔ ایسا شخص جو ریاء سے کلیۂ پاک ہو آغاز میں بھی اور انجام میں بھی ۔ عطا کرتے وقت بھی اور ان محرکات کے لحاظ سے بھی جو عطا کے پیچھے ہوتے ہیں۔ تو ایسے شخص کو بھی خدا پھر کبھی نہیں بھلاتا۔ ہمیشہ خدا اُسے پیار اور محبت سے یاد رکھتا ہے اور جب سائے کی تلاش ہوگی بنی نوع انسان کو تو اس کو بھی خدا کے سائے کی طرف بلایا جائے گا۔ آنحضرت اسی رنگ میں خدا کے پیار کی باتیں سکھایا کرتے تھے اس سے انسان کو کس عليه صلى ال طرح تعلق بڑھانا چاہئے کس طرح خدا کا پیار جیتنا چاہئے کہ عام صحابہ میں اس کی طرف بڑی شدت خدا سے احساس پیدا ہو چکا تھا کہ ہم نیکی کریں تو اس کے نتیجے میں ہمیں دنیا میں واہ واہ نہ ملے اور اگر ملتی بھی ہو تو ہم اس کا انکار کر دیں ۔ چنانچہ بعض صدقات کے معاملہ میں روایت ملتی ہے کوئی شخص ایک صحابی رات کو نکلے چھپ کر دینے کے لئے کسی کو تو ایک فاحشہ عورت کو دے دیا صدقہ اور صدقہ دیتے ہی دوڑ جایا کرتے تھے کہ تا کہ وہ شکریہ بھی ادا نہ کر سکے پتا ہی نہ لگے کس نے دیا ہے۔ دوسرے دن شہر میں باتیں شروع ہو گئیں کہ ایک فاحشہ عورت تھی وہ شکار کی تلاش میں نکلی ہوئی تھی ایک سیدھا سادھا آدمی اس کو صدقہ دے کر بھاگ گیا۔ کبھی کسی اور کو دے دیا کبھی کسی اور کو دے دیا۔ بڑی دلچسپ ہے وہ روایت کہ کس طرح وہ بار بار کسی ایک امیر آدمی کو صدقہ دے کر بھاگ گیا اتنا بھی وقت نہ دیا اس کو کہ وہ واپس کرے کہ میاں مجھے کیا دے رہے ہو میں تو تمہیں دے سکتا ہوں ۔ صلى الله عروسه ۔ ( بخاری کتاب الزکوة حديث نمبر : ۱۳۳۲) یہ جو جذبہ پیدا کر دیا تھا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس جذبہ کے نتیجے میں خدا کے پیار کی باریک راہوں کی تلاش کرتے تھے وہ لوگ اور اللہ تعالیٰ کی ان پر نظر ہوتی تھی یہاں تک کہ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کا ذکر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرما دیا۔ فرماتا ہے: وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (الدهر : ٩) کہ دیکھو محمد مصطفی اے نے کیسے کیسے عشاق پیدا کئے ہیں يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى اصلى الله حبہ وہ محض اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں کو بھی کھانا کھلاتے ہیں ، یتیموں کو بھی کھانا کھلاتے ہیں اسیروں کو بھی کھانا کھلاتے ہیں اس کا عموماً یہ ترجمہ کیا جاتا ہے کہ کھانے کی محبت پر کہ جب کھانا اپنا کم ہو اور غربت ہو اس کے باوجود دیتے ہیں۔ یہ بھی اس کا مطلب صحیح ہے کیونکہ قرآن کریم کی دوسری آیت سے اس مضمون کو بھی تقویت ملتی ہے۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ