خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 206
خطبات طاہر جلد 1 206 خطبه جمعه ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء لئے اور پھر اس کو احسن القصص بیان فرمایا ۔ اس آزمائش میں یہی دو باتیں اکٹھی ہو گئیں تھیں ۔ حسن بھی اپنے عروج پر تھا اور قوت بھی بہت بڑی حاصل تھی اس شخص کو اس کی بیوی کو ۔ چنانچہ قرآن کریم سے پتا چلتا سے پتا ہے کہ اس کہ کہنے پر سارے شہر کی معز ز عورتیں حاضر ہوئیں شوق کے ساتھ اور وہ اس کے کہنے میں چلنے والی تھیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض ایک عام بیوی نہیں تھی افسر کی بلکہ با اقتدار بیوی تھی۔ بعض عورتیں اپنے افسروں کے ذریعے حکومت کر رہی ہوتی ہیں ان کی اور بھی زیادہ شان بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ آج کل امریکہ میں ریگن کو یہی طعنہ دیا جا رہا ہے کہ یہ تو یونہی نام کا پریزیڈنٹ ہے اصل تو اس کی بیوی پریزیڈنٹ ہے۔ یہاں تک کہ پچھلے دنوں پر لیس میں بڑے چڑ کر اس نے اس کی تردید کی کہ نہیں میں ہی پریزیڈنٹ ہوں میری بیوی کہاں سے ہو گئی۔ بیوی کے متعلق معلوم یہی ہوتا ہے کہ اصل میں صاحب اقتدار تھی اور اس کا خاوند اس کے پیچھے چلتا تھا۔ چنانچہ ہر صورت میں وہ غالب رہی اپنے خاوند کے اوپر اور علاقے پر بھی اس کا بڑا اثر تھا۔ تو آپ نے نام تو نہیں لیا لیکن یوسفی شان کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے کہ پاکباز مرد جس کو خوبصورت اور با اقتدار عورت نے بدی کی طرف بلایا اور پھر اس نے اس کا انکار کیا۔ چھٹے وہ سخی جس نے اس طرح پوشیدہ طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ اب صدقے کے مضمون میں بھی ہمارے بے شمار نیک خرچ جو نیکی کے نام پر ہم کرتے ہیں اور بسا اوقات ان کے پیچھے دل کا جذ بہ بھی شامل ہوتا ہے یعنی ریاء کی خاطر نہیں کر رہے ہوتے ۔ دل ایک خاص جذبے سے متاثر ہو جاتا ہے کسی غربت سے کسی کی تکلیف سے دردمند ہو جاتا ہے ہم خرچ کر دیتے ہیں لیکن شیطان موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ جب خرچ کر رہے ہوتے ہیں اس وقت وہ داخل ہو جاتا ہے کہ تم نے ٹھیک ہے اچھے کام کی خاطر کیا تھا بڑی نیکی کی ہے ساتھ ہی اگر شہرت بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ کیا حرج ہے دنیا بعد میں واہ واہ کرے ہاں تم نے اس طرح کیا اور اس طرح کیا۔ تو آنحضرت ﷺ چونکہ ہر اس سوراخ سے واقف تھے جس سے بدی داخل ہوتی ہے اور اپنی حفاظت فرما چکے تھے ہر اس سوراخ سے اسی لئے صاحب تجربہ تھے اور جانتے تھے کہ یہ انتہا ہے آزمائش کی ۔ فرمایا کہ خدا کی باریک نظر جہاں تک پہنچتی ہے تم اگر خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو کرتے ہو گے لیکن کبھی ایسا بھی تو خرچ کرو کہ کسی کو