خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 196
خطبات طاہر جلد ۶ ہے دل کی گہرائی میں ڈوب جاتا ہے۔196 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ کا مختلف رنگ میں ذکر فرمایا ہے کبھی اس کے جلال کا ذکر کبھی اس کے جمال کا ذکر کبھی اس کی رحمت اور بخشش کا ذکر اور کبھی دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے قرب کے طریق سکھائے غرضیکہ زندگی کے ہر پہلو پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا خدا سے عشق غالب ہے۔کوئی زندگی کا ایسا پہلو نہیں ہے جس میں حضرت رسول اکرم ﷺ کے آئینہ قلب میں آپ کو خدا دکھائی نہ دے۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں بخاری کتاب التوحید سے یہ حدیث لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے رب کی طرف سے ہمیں یہ بات بتائی۔اسے حدیث قدسی کہا جاتا ہے جب یہ کہا جائے کہ رسول اکرم ﷺ نے کوئی بات بتائی اور واضح فرما دیا کہ مجھے خدا نے یہ بات بتائی ہے تو چونکہ روایت خدا تک جا پہنچتی ہے۔اس لئے اسے حدیث قدسی کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ گناہ کرتا ہے اور پھر دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے نا مجھی سے گناہ تو کیا لیکن اس کے علم میں ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور چاہے تو پکڑ بھی لے۔پھر میرا بندہ تو بہ تو ڑ دیتا ہے اور گناہ کرنے لگ جاتا ہے اور پھر نادم ہو کر کہتا ہے اے میرے رب ! میرا گناہ بخش دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا لیکن وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے۔وہ گنا ہوں کو معاف بھی فرماتا ہے اور گرفت بھی کرتا ہے اور پھر بندہ تو بہ تو ڑ دیتا ہے اور گناہ کرتا ہے لیکن نادم ہو کر دعا مانگتا ہے کہ اے ہمارے رب ! میرا گناہ بخش۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ ہے جو جانتا ہے کہ میرا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے۔میرا بندہ کمزور ہے اپنے پر قابو نہیں رکھ سکتا غلطی کر بیٹھتا ہے لیکن اگر وہ نادم ہو کر تو بہ کرے تو میں اسے بخش دوں گا۔( بخاری کتاب التوحید حدیث نمبر: ۶۹۵۳) یہ جو مضمون ہے کیسی سادہ زبان میں اللہ اور بندے کا گناہ کے بعد بخشش مانگنے کا جو تعلق قائم ہوتا ہے اسے بیان فرمایا گیا ہے اور بار بار یہ دیکھنے کے باوجود کے ایک انسان گناہ گار ہے پھر خدا تعالیٰ کی بخشش کا اس رنگ میں ذکر ہے کہ جوں جوں آپ یہ بات سنتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے لیکن گناہ کی محبت نہیں بڑھتی۔یہ وہ انداز ہے