خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 191
خطبات طاہر جلد ۶ 191 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء تقویٰ اور محبت الہی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں تقوی آنحضور سے سیکھیں ( خطبه جمعه فرموده ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةٍ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ پھر فرمایا: (السجدۃ: ۱۷-۱۸) تقویٰ کا مضمون اسلام کے ساتھ ایک ایسا تعلق رکھتا ہے کہ کسی اور مذہبی تعلیم میں اس مذہب کے ساتھ تقویٰ کا مضمون اس طرح گہری وابستگی اختیار کئے ہوئے دکھائی نہیں دیتا بلکہ عملاً فی الحقیقت اگر آپ غور کریں تو اسلام تقویٰ اور تقویٰ اسلام ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے منظوم کلام میں اسلام ہی کو تقوی قرار دیا ہے۔اس وسعت کے ساتھ یہ مضمون قرآن کریم میں پھیلا ہوا ہے اور احادیث میں ملتا ہے اور اس شدت سے اس پر زور دیا گیا ہے اول و آخر کہ گویا روحانی زندگی کا خلاصہ تقویٰ ہے جس کے بغیر کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔