خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 190

خطبات طاہر جلد ۶ 190 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء آج کچھ احباب اور خواتین کی نماز جنازہ غائب ہوگی جمعہ کے معا بعد۔ایک ہمارے وقف جدید کے پرانے کارکن بہت ہی مخلص ، فدائی دوست تھے صو بیدار شرافت احمد صاحب، ان کی اہلیہ مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ کچھ عرصہ کافی علیل رہ کر وفات پاگئی ہیں۔عزیزہ ہاجرہ بی بی صاحبہ، یہ بہت چھوٹی سی بچی تھیں بہت پیاری اور بہت محبت کی ، نیکی کی باتیں کرنے والی تین سال کی عمر تھی صرف لیکن بڑی ذہین، جماعت سے بہت پیار کرتی تھیں یہ ہمارے منظور افضل بٹ خدا کے فضل سے بہت ہی اچھے کامیاب داعی الی اللہ ہیں کرائیڈن کی جماعت کے ان کی بھیجی ہے اور اس اچانک حادثے کا شکار ہوگئی غالبا کنوئیں میں گری یا کہیں جھا سکتے جھانکتے کوئی بہر حال حادثے کے نتیجے میں وفات پاگئی اور بڑا گہرا صدمہ ہے ان کے ماں باپ اور عزیزوں کو کیونکہ بچی بہت پیاری تھی ان کے لئے بھی دعا کریں اس کی تو خدا تعالیٰ نے مغفرت کے سامان خود ہی فرمائے مکرم سیٹھی فضل حق صاحب۔یہ بھی کرائیڈن کی خاتون ہیں لجنہ کی اچھی کام کرنے والی، قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتی ہیں ، ان کے اجلاسوں میں لئیقہ شاہدہ، ان کے والد اوران سے بڑھ کر قابل ذکر ہیں ان کے بھائی جو جہلم کے امیر ہیں اور وقت پر انہوں نے امارت سنبھالی ہے ماشاء اللہ بہت ہی اچھا کام چل رہا ہے جہلم کی جماعت کا اور ہر پہلو سےاب نمایاں فرق ہے۔چنانچہ مربی کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ جس مسجد میں بہت کم نمازی ہوتے تھے اب خدا کے فضل سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔تو ان کے والد اچانک وفات پاگئے ہیں وہ آنکھوں کے آپریشن کے لئے گئے تھے لیکن آپریشن سے پہلی ہی ایک رات ہارٹ فیل ہو گیا۔چوہدری محمود نعمت اللہ من آباد لاہور میں ایک چوہدری اللہ بخش صاحب جو برادر اصغر عنایت اللہ صاحب احمدی سابق مبلغ تنزانیہ ہیں، فالج کی وجہ سے وفات ہوئی۔اور آخری جنازہ جس کا ہے ان کا نام ہے محمد حبیب صاحب ابن مکرم محمد لطیف صاحب سندھو جو ہمارے مبلغ ماریشیس مکرم رفیق احمد صاحب جاوید کے چھوٹے بھائی تھے اور امریکہ گئے ہوئے تھے وہاں کسی حادثے کا شکار ہو گئے غالباً کسی موٹر کے حادثے کا شکار ہو گئے۔ان پانچوں کی نماز جنازہ جمعہ کے معابعد ہوگی۔