خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 187

خطبات طاہر جلد ۶ سو! 187 ہے حاصل اسلام تقویٰ خدا کا عشق کے اور جام تقویٰ خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء مسلمانو ! بناؤ بناؤ تام تام تقوی کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ پھر فرماتے ہیں:۔یہ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي ( در تمین صفحه : ۴۹ ) زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے۔جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا سو تم اس کو مت چھوڑ دو اور ضرور ہے کہ تم دکھ دیئے جاؤ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جاؤ۔سوان صورتوں سے تم دلگیر مت ہو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس کی راہ میں ثابت قدم ہو یا نہیں۔اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور نا کامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔یہ وہ پیمانہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے رکھا۔اب کیا پاکستان کی جماعت اس پیمانے پر پورا نہیں اتر رہی؟ کتنی گالیاں ہیں جو ان کو دن رات دی جاتی ہیں، کتنے دکھ ہیں جو ان کو پہنچائے جارہے ہیں؟ کتنی کڑی تکلیفوں کی آزمائشیں ہیں جن میں وہ مبتلا کئے جا رہے ہیں اور اس کے باوجود خدا گواہ ہے کہ انہوں نے پیوند نہیں توڑا اور اپنے پیوند میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔ایسی پیاری جماعت کے متعلق کوئی کہے اپنے ذاتی اور چھوٹے سے مشاہدے کے نتیجے میں کہ وہ غیر متقی اور خدا سے دور اور ظالم اور سفاک اور منافق ہیں تو پھر دنیا میں باقی کہیں بھی کوئی حق کا نشان تک آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔فرماتے ہیں: