خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 179
خطبات طاہر جلد ۶ 179 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء ہے ورنہ وہ پردے پھٹے تو کچھ اور مضمون اندر دکھائی دیتا ہے اور اس کے برعکس خدا کے فضل سے جماعت کی ایک بڑی بھاری تعداد ہے جو آزمائشوں میں آکر بھی تقوی میں آگے بڑھتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ جماعت بالعموم خدا کی نظر میں ایک متقی جماعت ہے۔مجھے اس جماعت سے جتنا رابطہ پڑا ہے میں خدا کی قسم کھا کے گواہی دیتا ہوں کہ اگر یہ جماعت متقی نہیں تو دنیا میں پھر کوئی متقی نہیں ہے آج وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِینَ اِمَامًا میں ہمیں تقویٰ کی پہچان سکھا دی۔فرمایا تمہاری امامت کی طاقت تمہاری جماعت میں ہے۔اگر جماعت میں تقویٰ ہے تو تم طاقتور امام ہو۔اگر جماعت میں تقویٰ نہیں ہے تو تم کمزور اور بیکا ر امام ہو تمہاری کسی بات کا کسی سکیم کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہو گا۔پس وہ جماعت جو ہر نیکی کی طرف بلانے پر والہانہ عاشقانہ آگے بڑھتی ہے، حیرت انگیز قربانی کے مظاہرے کرتی ہے جو کلمہ لا الہ الا اللہ کے تقدس کی تحریک ہو یا کوئی اور تحریک ہو یا مالی قربانی ہو کونسی ایسی تحریک ہے جس میں جماعت نے آواز پر سو فیصد لبیک نہ کہا ہو۔ایسی حیرت انگیز جماعت ہے اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا ثمرہ جماعت ہو اس کے متعلق جب یہ لوگ ظالمانہ اعتراض کرتے ہیں جماعت میں سے ہی تو دل میرا پھٹنے لگتا ہے غم سے۔ان کو اپنی فکر کرنی چاہئے۔کسی کی برائی دور کرنے کے لئے دردمند ہونا بالکل اور بات ہے لیکن جب اپنے اوپر معمولی سی چوٹ پڑے تو انسان یہ بات بالکل بھلا دے کہ کس پر زبان دراز کر رہا ہے کن لوگوں کے متعلق باتیں کر رہا ہے۔ایسے لوگ اولین میں بھی تھے اور آخرین میں بھی پیدا ہورہے صلى الله ہیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی ایسے لوگ تھے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود حضور اکرم ہے پر بھی زبان طعن دراز کرنے سے باز نہیں آئے لیکن اس کے باوجود، با وجود اس کے کہ میں جانتا ہوں بالعموم خدا کے فضل سے نہ صرف جماعت تقویٰ کے معیار میں بلند ہے بلکہ بلند تر ہونے کی تمنا رکھتی ہے آگے بڑھنے کے لئے بے قرار ہے اور کمزوریاں ہر انسان میں ہوتی ہیں کوئی انسان ایسا نہیں جس میں کمزوریاں نہ ہوں دیکھنا یہ ہے کہ اس شخص کی توجہ کس طرف ہے۔کمزوریاں بڑھنے پر وہ خوش ہے یا کمزوریاں کم کرنے کی طرف متوجہ ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں جن کو کمزوریوں کے باوجود ہر وقت فکر لگا رہتا ہے کہ میری فلاں کمزوری ابھی تک دور نہیں ہوئی میرا کیا بنے گا ؟ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کو برائی کی تمنا ہے اور حسرت ہی رہتی ہے کہ ہماری تمنا پوری نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ غالب نے کہا:۔