خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 163
خطبات طاہر جلد ۶ 163 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء صلى الله نہیں کرتے اور جو کچھ رسول اللہ ﷺ سے ہمیں پہنچا اس کو قبول کرتے ہیں چاہے ہم اس کو سمجھیں یا اس کے بھید کو سمجھ نہ سکیں اور اس کی حقیقت تک پہنچ نہ سکیں اور ہم اللہ کے فضل سے مومن موحد مسلم ہیں ۔ ( نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد ۸ صفحه : ۷ ) پس اگر ان کے نزدیک احمدیوں کی شریعت وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی تو پھر وہ شریعت تو یہ ہے۔ مگر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے کبھی اس پاؤں پہ کھڑا ہوتا ہے کبھی دوسرے پاؤں پر کھڑا ہوتا ہے۔ کوئی ایک بات تو واضح طور پر مانیں اور عہد کریں کہ ہاں ہم اس بات سے نہیں ملیں گے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔ میں سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اور میری صلى الله ساعت مسلمان ہے اور آنحضرت ا اور قرآن کریم پر اسی طرح ایمان لاتی۔ ہے جس طرح پر ایک سچے مسلمان کو لانا چاہئیے ۔ (لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۶۰) اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ الزام تراشیاں اسی طرح جاری رہیں اور فرضی قصے جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرتے چلے جائیں اور ہمیں جواب دینے کی اجازت نہ ہو اور جماعت احمدیہ کی زبان پر بھی پابندی لگی ہو ایک ملک میں اور قلم پر بھی پابندی ہو اور وہ کوشش کر کے اپنی آواز پہنچانے کی کوشش کریں لیکن ظاہر بات ہے کہ رستے میں بہت سی روکیں ہوں گی ، دقتیں ہوں گی اور جس کثرت سے ان کا گند مصنوعی اور افتراپردازیوں کا گند یہ پھیل رہا ہے اور جہاں جہاں تک یہ گند پہنچ رہا ہے ممکن نہیں ہے جماعت کے لئے اپنے محدود وسائل میں ان سب جگہوں تک یہ بات، اس کا جوابی پیغام پہنچادے۔ تو اس کا کیا حل ہے؟ ایک ہی حل ہے اور میں تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے ان سارے علماء کو خواہ وہ پاکستان میں بسنے والے ہوں یا باہر ہوں میں چیلنج کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح خدا تعالیٰ کے پاک نام کی قسمیں کھا کر یہ اعلان کیا ہے کہ میرا کلمہ وہی ہے جو سب مسلمانوں کلمہ ہے اور میرا رسول حضرت اقدس محمد مصطفی علی ہیں اور میرا ان سب باتوں پر ایمان ہے جو اسلام لانے کے لئے جن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جس شوکت اور شان سے آپ نے قسم کھائی ہے صلى الله