خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 162
خطبات طاہر جلد ۶ 162 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء جہاں تک ان الزامات کا جائزہ لینے کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا انشاء اللہ تعالیٰ اس موضوع پر نقطہ بنقطہ جواب لکھ کر ان سب زبانوں میں کثرت کے ساتھ تقسیم کرایا جائے گا جن زبانوں میں انہوں نے یہ الزام تراشیاں شروع کی ہوئی ہیں اور جو بھی ہوگا ضرور ہو گا۔چاہے وہاں پاکستان کے احمدیوں کو اور تنگی میں ڈالیں لیکن پاکستان میں بھی اب ضروری ہو گیا ہے کہ اس قسم کا جوابی اشتہار شائع کیا جائے یا چھوٹا رسالہ شائع کیا جائے اور کثرت کے ساتھ وہاں پھیلایا جائے۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کا تعلق ہے۔آپ کے متعلق یہ نتیجہ نکالنا جو نکالا ہے ایسا ظلم عظیم ہے ایسی سفا کی ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ ان کو یہ کیسے جرات ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جماعت احمدیہ کو کیا نصیحت کی اور آپ کا کیا دین تھا اور کیا کلمہ تھا یہ آپ کے اپنے الفاظ میں سنئے :۔ہم مسلمان ہیں، خدائے واحد ولا شریک پر ایمان لاتے ہیں۔ہاں ایک اور نتیجہ انہوں نے اس کتاب سے یہ نکالا ہے کہ شریعت منسوخ ہو گئی ان کے نزدیک اور اب مرزا غلام احمد کا کلام ہی ان کی شریعت ہے۔حیرت ہے ان کی فتنہ پردازیوں پر کوئی خدا کا ادنی سا بھی خوف نہیں کھاتے کیسے کیسے بڑے جھوٹ بولتے ہیں اور کس قدر بے باکی سے بولتے ہیں مگر اگر یہی بات ان کی سچی ہے تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی نے جو شریعت ہمیں بتائی ہے وہ سن لیجئے ، پھر اس کو بھی مانیں کسی جگہ ٹھہریں تو سہی۔اگر ہم سے وہی سلوک کرنا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے اور اس کو یہ ہماری شریعت ماننے پر آمادہ ہیں تو پھر وہ شریعت سن لیجئے وہ کیا ہے۔وہ شریعت یہ ہے:۔ہم مسلمان ہیں خدائے واحد لاشریک پر ایمان لاتے ہیں اور کلمہ لا الله الا اللہ کے قائل ہیں اور خدا کی کتاب اور اس کے رسول محمد ﷺ کو جو خاتم الانبیاء ہے مانتے ہیں اور فرشتوں اور یوم البعث اور بہشت اور دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں اور اہل قبلہ ہیں اور جو کچھ خدا اور رسول نے حرام کیا اس کو حرام سمجھتے ہیں اور جو کچھ حلال کیا اس کو حلال قرار دیتے ہیں اور نہ ہم شریعت میں کچھ بڑھاتے اور نہ کم کرتے ہیں اور ایک ذرہ کی کمی بیشی