خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 156
خطبات طاہر جلد ۶ 156 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء حالات ہیں سارا دن ان لوگوں میں جا کر بیٹھنا اور آوازیں پڑنا جس قسم کے قماش کے لوگ وہاں اکٹھے ہوتے ہیں ہر قسم کے مجرم ، ان لوگوں میں شرفاء کا جانا خود اپنی ذات میں ایک بہت بڑی سزا ہے۔ تو مولویوں کی بات تو قرآن کریم کے اس ایک لفظ نے جھوٹی کر دی اب جتنا مرضی زور لگا لیں احمدیوں کے متعلق وہ منافقت کا دعوی نہیں کر سکتے ۔ اللہ فرماتا ہے یہ جنگ کے طور پر ایسا کرتے ہیں ان کو کچھ فوائد پہنچتے ہیں اور بعض شر سے بچتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام تو کلمہ پڑھتے ہیں مار کھانے کے لئے مصیبتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جرات کے ساتھ بار بار اس کلمے کی محبت میں جیل میں جاتے ہیں تو جن کیسے بن گیا یہ کلمہ یہ تو جنت ہٹانے والی چیز ہوگئی۔ پھر فرمایا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لا يَفْقَهُونَ یہ اس لئے ہے کہ وہ ایمان لائے پھر انکار کیا اور انکار میں پھر ایسے پختہ ہوئے کہ فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ اور اب وہ ہرگز نہیں سمجھیں گے۔ سے صلى الله اس سے بڑی پختہ گواہی کسی کے کفر کی اور نہیں دی جاسکتی اور کسی کے جھوٹ اور منافقت کی اس سے بڑی گواہی نہیں دی جاسکتی۔ اگر ایسے شخصوں کے متعلق آنحضرت ﷺ نے نرمی کا سلوک فرمایا تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس لئے نرمی کا سلوک فرمایا کہ آپ کو توقع تھی کہ یہ مسلمان ہو جائیں گے اور میری نرمی اور پیار کے نتیجے میں ان کو بات سمجھ آجائے گی ۔ کوئی انسان جو ذراسی بھی عربی سے واقفیت رکھتا ہو اس آیت کو پڑھنے کے بعد یہ بات نہیں سوچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جھوٹے ہیں جھوٹی گواہی دے رہے ہیں حالانکہ تو خدا کا نبی ہے وہ تجھے نبی نہیں سمجھتے اور پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے جنة بنالیا ہے، ڈھال بنا لیا ہے اس بات کو اپنے لئے اور ایمان لائے تو تھے کسی وقت لیکن پھر کافر ہو گئے یعنی مرتد ہوئے اور ایسے کے مرتد ہو چکے ہیں خدا جو عالم الغیب ہے وہ جانتا ہے فطبع علی قُلُوبِهِمْ کہ اب ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ جو چاہو کر لو یہ بھی ہے سمجھ صلى الله عروسه نہیں سکیں گے ۔ اس واضح خبر کے بعد آنحضرت علی کیسے توقع رکھ سکتے تھے کہ یہ لوگ مسلمان ہو جائیں گے یا اپنے طرز عمل میں یا طرز فکر میں تبدیلی پیدا کر لیں گے۔