خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 155
خطبات طاہر جلد ۶ 155 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ یقیناً بہت برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔پاکستان کے موجودہ علماء جماعت احمدیہ پر یہ الزام لگا رہے ہیں بلا ثبوت جو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں خدا کی گواہی کے مطابق اس زمانے کے منافقین کیا کرتے تھے اور ہمیں ان منافقوں سے ملا رہے ہیں یہ ہے صورتحال اور اس تفصیل کے ساتھ ہمیں ان کے مشابہ قرار دے رہے ہیں کہ کہتے ہ اِتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً انہوں نے کلمہ کو اپنی ڈھال بنایا ہوا ہے دھوکہ دینے کے لئے۔اس لئے پڑھتے ہیں تاکہ مسلمان عوام الناس کو دھوکہ دے دیں اور وہ دھو کے کے ذریعے جماعت احمدیہ میں شامل ہو جائیں یہ سمجھتے ہوئے کہ سچ سچ یہی کلمہ ہے فَصَدُّوا عَن سَبِيْلِ اللہ پھر وہ خدا کے رستے سے ان کو روکیں۔اِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ یہ بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔جہاں تک مشابہت بنانے کا تعلق ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم نے وہاں جو منافقین کا نقشہ کھینچا ہے اللہ کی گواہی کے مطابق ہم پر یہ وہی الزام لگا رہے ہیں لیکن جہاں تک واقعات کا تعلق ہے میں آگے جا کر ظاہر کروں گا کہ بالکل برعکس صورتحال ہے۔جہاں تک جن کا لفظ ہے کہ یہ ڈھال بناتے ہیں اور مسلمان بنتے ہیں یہ بات قابل غور ہے کہ وہ ڈھال کس طرح بناتے تھے۔جُنَّةً شر سے بچنے کے لئے ہوتی ہے، حملے سے بچنے کے لئے ہوتی ہے۔آنحضرت ہے کے زمانے میں اگر بعض منافقین کلمہ پڑھ کے مسلمان ظاہر کرتے تھے تو کسی شر سے بچنے کے لئے کرتے تھے اور اگر آج احمدی کلمہ پڑھنے کے نتیجے میں شر میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ کیسے منافق ہو گیا۔اتنی کھلی کھلی بات ہے کہ حیرت ہے کہ ان کی عقلوں میں گھستی نہیں بات۔جُنَّةً تو بچنے کے لئے ہوتی ہے منافق تو اس لئے پڑھتا ہے کوئی چیز کے فائدے اٹھا جائے اور نقصان سے بیچ جائے اور احمدی کلمہ پڑھتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ شدید تکلیفوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ہزاروں ہیں جو جیلوں میں ٹھونسے گئے جن کے اوپر ہر وقت عدالت کے مقدموں کی تلواریں لٹکی ہوئی ہیں، ہر وقت کی ان کے اوپر پابندیاں ہیں، ضمانتوں پر جو رہا ہوئے ہیں ان کو بھی بار بار پیشی میں جانا پڑتا ہے اور جس قسم کے ہمارے ملک کے حالات ہیں جو جانتے ہیں ان کو اندازہ ہے کہ کتنا بڑا عذاب ہے وہاں کی عدالتوں میں پیش ہونا یعنی سزا ہونا یا ہونا تو بعد کا قصہ ہے ایسے گندے مناظر ہیں ایسے تکلیف دہ