خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد ۶ 154 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء چاہئے یہ بحث ہے۔اس بحث کو قرآن کریم پہلے اٹھا چکا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آئندہ کے حالات کی پیشگوئی بھی ان آیات میں کی گئی ہے۔نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں یہ حالات چسپاں ہوتے تھے ظاہری طور پر بلکہ اس رنگ میں پیشگوئی کی گئی کہ اگر ایسے حالات پیدا ہوں تو شریعت کا تقاضا کیا ہے۔یہ مراد نہیں ہے نعوذ بالله من ذالک جماعت احمدیہ کو منافق ظاہر کیا گیا ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ جماعت احمدیہ کی سچائی ان آیات میں بطور پیشگوئی بتائی گئی ہے اور ان لوگوں کو منافق دکھایا گیا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا طریق چھوڑ کر آپ کے دشمنوں کا طریق اختیار کریں گے اور یہ آیت کسوٹی ہے ان کے لئے ، صاف پہچانے جائیں گے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے ہمیں کاٹنے والے ہمیں کاٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا خود کٹ جاتے ہیں۔اس آیت میں، بسم اللہ کے بعد جو دوسری آیت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ کہ اے محمد ! جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ کہ تو یقینا اللہ کا رسول ہے وَ اللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ الله خوب جانتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے ، اسی نے تو بھیجا ہے تجھے۔وَاللهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ تَكْذِبُونَ اور اللہ یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹ بول رہے ہیں۔جب کہتے ہیں تو رسول ہے تو ہر گز دل میں یہ مراد نہیں ہوتی کہ تو رسول ہے، جھوٹ بولتے ہیں۔مولوی جو ہم پر الزام لگاتے ہیں ان کو اس لئے الزام لگانے کا حق نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ میں کسی مسلمان کو بھی حق نہیں دیا نہ آئندہ آنے والے کسی مسلمان کو حق دیا تو وہ کسی کے ادعا کے خلاف اس کی طرف کوئی بات منسوب کرے اور دل کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو زبان سے نہ کہتا ہو تو یہ ایک اصول ہے آنحضرت ﷺ کا لیکن اس آیت میں خدا خبر دے رہا ہے آنحضرت ہو نے اپنی طرف سے کوئی فتویٰ جاری نہیں فرمایا۔اللہ واضح طور پر بعض لوگوں کے متعلق خبر دیتا ہے کہ وہ تیرے پاس آتے ہیں، تجھے خدا کا رسول بتاتے ہیں، اللہ جانتا ہے تو رسول اللہ ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔اِتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً انہوں نے اپنے ایمان کو ڈھال بنالیا ہے۔فَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ الله پس اس کے نتیجے میں وہ اللہ کے رستے سے روکتے ہیں۔اِنَّهُم