خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 149
خطبات طاہر جلد ۶ 149 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء منافقین کی تعریف ، علماء کو مقابلے کا چینج، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عشق رسول ( خطبه جمعه فرموده ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: إذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوْا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَ اللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ لكَذِبُونَ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيْلِ اللهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ امَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوا فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ) (المنافقون : ۲-۴) گزشتہ خطبہ میں میں نے اس نہایت ہی غیر اسلامی اور دل آزار مہم کا ذکر کیا تھا جو پاکستان کے مولویوں کے ایک طبقہ کی طرف سے کلمہ طیبہ کے خلاف چلائی جارہی ہے۔کلمہ طیبہ ایک ایسا محاورہ ہے جو ہندوستان اور پاکستان میں رائج ہے اور جب ہم کلمہ طیبہ کہتے ہیں تو مراد اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده و رسوله سے ہے۔صرف لا اله الا الله محمد رسول اللہ کو کلمہ شہادہ بھی کہا جاتا ہے اور کلمہ طیبہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔عرب اس کلمہ کو کلمہ شہادۃ کے نام سے جانتے ہیں کیونکہ یہ گواہی دینے والا کلمہ ہے۔اس لئے ہمارے