خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد ۶ 145 خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء ہو گئے تو پھر تمہاری اپنی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے، تم انہی لوگوں میں سے ایک بن جاؤ گے۔اس لئے یہ جہاں تک درد کا تعلق ہے درد اپنی جگہ ہے مگر اس درد کے حصے دار بہت ہیں۔صرف جماعت کے مظلوم نہیں ہیں سارے پاکستان کے مظلوم ہیں، ساری دنیا کے مظلوم ہیں۔افریقہ میں بھی جگہ جگہ جہاں جہاں جماعتیں ہیں وہاں یہ نظام قائم ہے کہ لوگ اپنی تکلیفیں ہمیں بھیجتے ہیں لکھ کے پتا لگ رہا ہے کہ انسانیت کا کیا حال ہے کتنے دکھوں میں بس رہی ہے اور جب حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے تو احمدی محسوس کرتا ہے کہ اس کے سر پر کوئی ہاتھ ہے کوئی سہارا ہے خدا کے فضل کا اور غیر احمد یوں میں بھی اب یہ بات پھیلتی چلی جارہی ہے اور وہ اپنی مصیبت کے وقت لکھنے لگ گئے ہیں ہر طرف سے۔ان کو یہ پتا ہے کہ اگر سچی ہمدردی ہے کسی جماعت میں تو اسی میں ہے ہندو بھی لکھتے ہیں بعض۔یعنی بھوپال میں جو واقعہ گزرا اس کے اوپر ایک ہندو نو جوان کا خط آیا پتا نہیں کہاں سے وہ لوگ پتا کر لیتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ ذرائع بنا دیتا ہے ان تک بات پہنچانے کے کہ میں اس مصیبت میں ہوں اس تکلیف میں ہوں میرا خیال کیا جائے۔ایک نہیں کئی ہندو ہیں ایسے اور سکھ ہیں بعض جنہوں نے اپنی مصیبتیں اپنی تکلیفیں لکھیں بعض تو بے چارے صرف دعا کے لئے لکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ایک دعا کرنے کی جگہ ہے ہمارے لئے اور بعض پھر تکلیفیں ظاہر کر کے مدد کے لئے بھی لکھتے ہیں اور جہاں تک جماعت کو توفیق ہے مذہب کی تفریق کئے بغیر مدد کی کوشش کرتی رہتی ہے۔تو خدا نے آپ کو بنایا ہے ان چیزوں کے لئے ، بھلائی کے لئے بنایا ہے۔ظلم اور سفا کی کے لئے نہیں بنایا۔اس لئے اپنی شخصیت کو نہ تبدیل ہونے دیں۔وہ مثال ایک دفعہ میں نے پہلے بھی ایک موقع پر دی تھی اب پھر دیتا ہوں ، بڑی موقع اور محل کی مثال ہے۔کہتے ہیں ایک گائے دریا پار کر رہی تھی تیرتے ہوئے تو ایک بچھو اس کی دُم پر آکے بیٹھ گیا اور وہ ڈوبنے لگا تھا اس کو قریب دُم نظر آئی اس کی دُم تک پہنچا اس کے سہارے وہ دریا پار کر گیا۔جب اس نے دُم کنارے سے لگا کر بچھو کو ا تارا تو اس نے اترنے سے پہلے اس کو ڈس لیا۔کہانی کی زبان میں جانور بھی باتیں کرتے ہیں یہ تمثیل ہوتی ہے۔کہتے ہیں وہاں خرگوش ایک بیٹھا ہوا تھا اس نے گائے سے کہا تم بڑی بے وقوف ہو اتنا احمق جانور میں نے نہیں دیکھا، بچھو کو تم نے نجات دی ؟ بچھو کو اُٹھا کر دریا پار کروایا؟ اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا اس نے ڈنگ مارا ہے تمہیں۔گائے نے کہا