خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد ۶ 144 خطبه جمعه ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء قصبے بے سہارا ہیں۔ ہمارے ہاں یتیموں کے لئے سہاروں کا انتظام ہے۔ ان کے گزارے لگے ہوئے ہیں ان کی تعلیم کا انتظام ہے۔ بیواؤں کے لئے سر ڈھانپنے کا انتظام ہے، بے گھروں کے لئے گھر مہیا کرنے کے انتظامات ہیں جتنی بھی جماعت کی طرف سے توفیق ہے۔ گندم دی جاتی ہے سالانہ اور ضرورتیں گرمیوں کی بھی پوری کی جاتی ہیں سردیوں کی بھی پوری کی جاتی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ جتنی بد حالی ہے اقتصادی لحاظ سے ہمیں توفیق نہیں ہے کہ کم سے کم بنیادی معیار پوری طرح مہیا کر سکیں لیکن اللہ کے فضل کے ساتھ کوئی آدمی بے سہارا نہیں ہے۔ ایک دور دراز قصبے سے یا ایک چھوٹے سے گاؤں سے بعض دفعہ ایک یتیم کی ایک بیوہ کی درد ناک آواز یہاں تک پہنچتی ہے اور اسی وقت جماعت حرکت میں آتی ہے اور اسی وقت لوگ پہنچتے ہیں ، بڑے بڑے لمبے سفر کر کے پہنچتے ہیں کہ تم نے خلیفہ وقت کو کیا لکھا تھا جس کی وجہ سے ہمیں یہ بے قرار پیغام پہنچا ہے کہ جاؤ اور اس کی ضرورت کو پورا کرو ۔ ان بے چاروں کا کون ہے؟ کون ان کا سہارا ہے؟ کون ان کا نگہداشت کرنے والا ہے؟ کون پوچھنے والا ہے؟ ساتھ کے گھر میں ظلم ہو رہا ہے اور سقا کی ہو رہی ہے اور کوئی نہیں جس کے دل میں ادنی سی بھی حرکت پیدا ہوئی ہو، رحم پیدا ہوا ہو۔ سارا ملک ظلم کا شکار ہے چل رہے ہیں اسی طرح۔ تو اس کے بعد آپ کی بددعا ئیں لگیں اس قوم کو تو یہ تو بڑا ظلم ہے۔ ایسے دردناک واقعات پر اپنے آپ کو سنبھالا کریں غور کیا کریں کہ آپ رحم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ صلى الله أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : ۱۱۰) تم وہ بہترین امت ہو جس کو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے خدا تعالیٰ نے نکالا ہے اور وہی اُمت ہو جو حضرت محمدمصطفی ﷺ کی قائم کردہ امت ہے اس لئے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ (الشعراء:۳) کا لحاظ کیا کرو۔ حضرت محمد مصطفی ہے تو دشمنوں صلى الله عروسه کی ہلاکت کے خبر سے بھی انتہائی دردمند ہو جایا کرتے تھے۔ اس لئے اپنے اس پاک جذبے کی حفاظت کرو جو سنت محمد مصطفی ﷺ کے نتیجے میں تمہیں عطا ہوا ہے۔ ان دلوں کی حفاظت کرو جن میں سقا کی نہیں ہے بلکہ رحم ہے اور یہی تمہاری شخصیت ہے جو آئندہ تمہاری زندگی کی ضامن بنے گی۔ یہی وہ شخصیت ہے جس شخصیت کو خدا کبھی ضائع نہیں ہونے دیا کرتا۔ اگر ادنی انتقامات کے لئے تم نے عمومی طور پر بنی نوع انسان کی ہمدردی چھوڑ دی اور بے تعلق ہو گئے اور سفا کی پر خوش ہونا شروع