خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 143
خطبات طاہر جلد ۶ 143 خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء غرق کر دیتا ہے یا ان کے سارے کپڑے یا جو بھی ان کے پاس غریبانہ سامان ہوتے ہیں سب بہا کے لے جاتا ہے اور بہت ہی گندی حالت ہے اور بہت ہی تکلیف میں زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ہیضے اور وبائیں پھوٹتی ہیں تو وہیں انہیں بے چاروں کے اوپر۔دیہات میں بھی غربت کا یہ عالم ہے کہ جو ایک طبقہ غریب ہے ان کا پرسان حال ہی کوئی نہیں ہے، فاقہ کر رہے ہیں تو کسی کو پتہ ہی نہیں کہ گھروں میں فاقہ پڑ رہا ہے اور پھر عزتیں نیچی جارہی ہیں چھوٹے قصبات میں کثرت سے اور بالکل بے اختیاری اور مجبوری کی حالت ہے اس کے اوپر چوری، اس کے اوپر ڈا کہ اس کے باوجود ان سب تکلیفوں کے پھر ظلم کوئی اور کرتا ہے اور چند لوگ جو بے سہارا ہیں جن کی پولیس میں سفارش نہیں ہے ان کو پکڑ کے گھسیٹ کے تھانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔یہ سارے حالات ہیں ان پر بھی تو نظر کریں۔جتنی شہادتیں احمدیوں کی ہوئی ہیں اس کے مقابل پر لاکھوں گنا زیادہ دکھ ہے جو سارے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور ان شہادتوں کے بعد پھر اور زیادہ خدا تعالیٰ کا عذاب بھی ظاہر ہو رہا ہے اور لوگ مختلف مصیبتوں اور تکلیفوں میں پکڑے بھی جارہے ہیں۔تو بددعا کے حقدار تو نہیں ہیں یہ لوگ ، رحم کے مستحق ہیں، دعاؤں کے محتاج ہیں۔پس اپنی تکلیف کو ان کی تکلیفوں کے ساتھ شامل کر کے ساری قوم کے لئے دعا مانگیں ہاں جو چند بد بخت ہیں ان کے لئے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا اور جس طرح آنحضرت ﷺ نے بھی آئمۃ الکافرین کے لئے ، آئمۃ التکفیر کے لئے بددعا کی ہے ایسے چند بد بختوں کے لئے جن کے دل سخت ہو گئے اور سخت ہوتے چلے جارہے ہیں ان میں کوئی حیاء باقی نہیں رہی اپنا اگر جوش نکالنا ہے بددعا کا توان پر بے شک نکال لیں لیکن قوم کو اپنی بددعا میں شامل نہ کریں بلکہ قوم کیلئے پہلے سے زیادہ دعائیں کریں اور زیادہ درد کے ساتھ دعائیں کریں۔ان سارے حالات پر نظر کریں پھر آپ کا دل واقعۂ دعا کے لئے مائل ہو گا ورنہ بغیر سوچے صرف اس لئے کہ میں نے کہہ دیا دعا کریں آپ دعا شروع کر دیں یہ ہو نہیں سکتا تبھی میں نے اپنی سوچ میں آپ کو شامل کیا ہے، آپ کو بتایا ہے، مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ واقعہ یہ قوم قابل رحم ہے، نہایت درد ناک حالات ہیں۔جہاں جہاں احمدی جماعتیں ہیں وہاں آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ باوجود جماعت کی کوششوں کے پھر بھی کچھ نہ کچھ دکھ رہ جاتے ہیں اور باقی سارے شہر سارے