خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد 4 108 خطبه جمعه ۱۳ / فروری ۱۹۸۷ء یقین کے نتیجے میں بعض دفعہ انبیاء کو پاگل قرار دیا گیا ہے اور اپنوں کے ذریعے بھی قرار دیا گیا ہے۔جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بچوں سے کہا :۔لَا جِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَتِّدُونِ (يوسف:۹۵) اس کا یہی مطلب تھا کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے اور میں جانتا ہوں کہ تم میرے منہ پہ مجھے پاگل نہیں کہہ سکتے لیکن تمہارا دل یہی کہہ رہا ہے اندر سے کہ اس کو تو کچھ ہو گیا ہے یہ تو پاگلوں والی باتیں کرتا لَوْلَا أَنْ تُفْسِدُونِ خواہ تم دیوانہ سمجھو، دیوانہ قرار دو جو کہو کہومگر مجھے کامل یقین ہے کہ یوسف آنے والا ہے مجھے اس کی خوشبو آرہی ہے۔فتح اسلام سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی محاورہ استعمال فرمایا ہے: آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار ( در مشین صفحه: ۱۳۰) ہے۔پس ہم تو ان دیوانوں کے غلام ہیں جن کے یقین کو کوئی دنیا کا طعنہ بھی تبدیل نہیں کر سکا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونے کے بعد ہم آپ کے انتظار میں شامل ہو چکے ہیں اور اس یقین کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں جس یقین کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے یوسف کا انتظار کر رہے تھے۔پس جب میں کہتا ہوں کہ اگلے سال سے پیمانے بدل دو، ہزاروں کو لاکھوں میں تبدیل کر دو۔تو جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں میں سے بعض نے ضرور یہ سمجھا ہو گا کہ یہ تو دیوانوں کی بر لگتی ہے اس طرح خواہ آپ کا مجھ سے کیسا ہی تعلق ہو اور پیار ہو آپ میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو سوچتے ہوں گے کہ اسلام کے پیار میں اور محبت میں ایسی باتیں کر رہا ہے لیکن بظاہر یہ ہونی ممکن نہیں ہے۔لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ممکن ہے اور آپ کے ہاتھوں ممکن ہے آپ یقین تو پیدا کریں کیونکہ یقین پیدا کئے بغیر عمل میں قوت پیدا نہیں ہوتی عمل میں جان نہیں پڑتی اور آخرت پر یقین ہے جو غیر ممکن چیزوں کو ممکن کر کے دکھا دیا کرتا ہے، کامل یقین کی ضرورت ہے۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ ایک شخص کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ چیز ناممکن ہے۔سو وہ آگے بڑھا اور اس