خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 882
خطبات طاہر جلد ۶ 882 خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء ساتھ جماعتیں ترقی کر رہی تھیں وہاں خاموشی پیدا ہو گئی۔اس وجہ سے جب ہندوستان کی جماعت کو تیز کیا گیا اور ان کو سمجھایا گیا کہاں کہاں کس کس رنگ میں کام کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا کی رحمت کا پوٹینشل موجود رہتا ہے صرف چھیڑنے کی بات جیسے اقبال نے کہا ہے:۔ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی یا ” بڑی زرخیز ہے ساقی تو واقعہ یہ ہے کہ مٹی ہماری زرخیز ہی رہتی ہے خواہ خشک سالی کا وقت ہو یا تر سالی کا وقت ہو۔بہر حال بڑی تیزی کے ساتھ جماعت ہندوستان نے Respond کیا ہے، لبیک کہا ہے نیک کاموں کی تحریک کو یہاں تک کہ میں نے محسوس کیا کہ اب ان کے اندر کام کا جذ بہ تو ہے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن پیسے پورے نہیں اور جو قربانی کے معاملے میں جو ستی تھی بعض جگہوں میں اس کی طرف ابھی تک انجمن قادیان توجہ نہیں کرسکی اور باوجود اس کے کہ یہاں سے کچھ کوشش کی گئی ہے بڑھانے کی لیکن ابھی جتنی خدا نے استطاعت بخشی ہے ہندوستان کو اتنا قربانی میں حصہ نہیں لے رہا۔اس لئے کام کو تو بہر حال نہیں روکنا۔وقت جب خدا توفیق دے گا پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے لیکن اس عرصے میں ہمیں باہر سے مدد کرنی ہے۔چنانچہ وقف جدید کی جو بیرونی تحریک ہے اس کا ایک بڑا مقصد یہی تھا اور اس کے فوائد اتنے زیادہ ہیں اللہ کے فضل سے اور اس کے نتیجے میں جو ظاہر ہوئے ہیں نتائج وہ اتنے زیادہ ہیں کہ بعض ممالک میں اگر ہم میں روپے صرف کریں تو جو نتیجہ نکل رہا ہے ہندوستان میں ایک روپیہ خرچ کرنے سے وہ نتیجہ نکل رہا ہے یعنی بعض جگہ میں بھی نہیں بیسیوں گنا زیادہ خرچ کے مقابل پر پھل مل رہا ہے۔افریقہ میں بھی ایسے حالات ہیں بعض جگہ مختلف ممالک کے مختلف حالات ہوتے ہیں۔جہاں خدا کی تقدیر آپ کو پھل زیادہ دے رہی ہو اس واقعہ کونظرانداز کر دینا اور اس سے استفادہ نہ کرنا یہ خدا کی تقدیر کی ناشکری ہے۔پس تمام دنیا میں جو وقف جدید کے نام پر آپ سے رقم لی جاتی ہے خدا کی راہ میں اس کا یہ مصرف ہے اور شدھی کی تحریک کے مقابل پر جو جماعت احمدیہ نے تحریک شروع کی اور خدا کے فضل سے انتہائی کامیابی کے ساتھ کی اس میں بھی وقف جدید نمایاں طور پر حصہ لے رہی ہے اور بعض علاقوں میں جہاں غیروں نے سکول بنائے تھے، ہسپتال شفا خانے بنائے تھے اور اس طرح وہ مقامی طور پر اپنے اثرات پیدا کر رہے تھے مثلاً عیسائی ہیں جو مسلمانوں کو مرعوب کر رہے تھے یا شیڈول