خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد ۶ 570 خطبه جمعه ۲۸ / اگست ۱۹۸۷ء کچھ آپ کے پاس ہے وہ خدا کے سپرد کر دیں پھر دیکھیں خدا اپنا حصہ کتنا ڈالتا ہے۔یہ بات میں وسیع تجربے کے بعد کہہ رہا ہوں۔جو احمدی بھی لاعلمی کے باوجود تبلیغ کے میدان میں کودتے ہیں ہر قسم کے دشمن سے واسطے کے باوجود کبھی بھی خفت محسوس نہیں کرتے کبھی خدا ان کو ذلیل نہیں ہونے دیتا۔پھر آج کل کے زمانے میں تو بہت سے ایسے نئے ذرائع ایجاد ہو گئے ہیں جس سے تبلیغ کی اہلیت کی کمی یا زبانیں نہ جاننے کا نقص بڑی آسانی سے دور ہو جاتا ہے۔کیسٹس ہیں ان میں عربی کے سوال جواب کے پروگرام بھی درج ہیں، عربی کے لیکچر بھی درج ہیں مختلف مسائل کے اوپر ، ٹرکش زبان میں کیسٹس ہیں اور دنیا کی افریقین اور دیگر ایشیائی زبانوں اور بعض مغربی زبانوں مثلاً انگریزی، فریج ، جرمن ان سب میں ہمارے پاس کیسٹس موجود ہیں۔ویڈیوز بھی ہیں، آڈیوز بھی ہیں لیکن اکثر مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ مبلغین نے یا جو ملکی عہدیداران تھے اُنہوں نے جماعت میں ان باتوں کی تشہیر نہیں کی ہوئی۔بار بار یاد نہیں کرایا کہ ہمارے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض دفعہ ایک احمدی کا کسی ٹرک (Turk) سے واسطہ پڑتا ہے یا کسی ویت نامی سے یا کسی اور سپینش سے مثلاً واسطہ پڑتا ہے تو مجھے خط لکھتا ہے کہ میں کیا کروں؟ میرے پاس کیسٹس نہیں ہیں، میرے پاس لٹریچر نہیں ہے۔اب میرے ساتھ اور کئی آدمیوں کا وقت اس بات میں استعمال ہوتا ہے، میں ضائع تو نہیں کہہ سکتا یہ تو اچھی جگہ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے بغیر بھی اس کا کام چل سکتا تھا اور ہمارا وقت بچ سکتا تھا۔اگر مربی نے پہلے سے بتایا ہوا ہوتا کہ یہ کیسٹس تو مرکز ہمیں مدت ہوئی بھیج چکا ہے اور اگر مرکز نے نہیں بھیجی تھی تو مربی کا کام تھا مجھے لکھتا اور بتا تا کہ اس مضمون پر مجھ سے مطالبہ کیا گیا میں نے جائزہ لیا ہمارے پاس کوئی ایسی کیسٹ نہیں حالانکہ مرکز میں یہ انتظام ہے اور سارے ملکوں کو ہدایت ہے کہ اپنی زبان میں جو کیسٹس وہ تیار کرتے ہیں وہ دوسرے ملکوں کو بھجوائیں تا کہ دنیا کے ہر ملک میں ہر زبان کی لائبریری قائم ہو جائے لیکن وہ ہوسکتا ہے اس لئے شکایت نہ کرتے ہوں کہ خود جو کیسٹس بناتے ہیں وہ آگے نہیں بھجواتے۔اگر یہ احساس ہو کہ جو ہم نے کام تیار کیا ہے اس سے ساری دنیا استفادہ کرے تو پھر دنیا سے استفادہ کرنے کا حق بھی پیدا ہو جاتا ہے۔پھر اگر کوئی نہ ان کو فائدہ پہنچا رہا ہو تو خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم تو بھجوا رہے ہیں باہر سے کوئی کیسٹ ہمیں نہیں ملتی۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اس طرف سے۔خواہ مخواہ کیوں اتنا بوجھ اُٹھایا جائے کہ پھر اور