خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 186

خطبات طاہر جلد ۶ 186 جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھولا ہے۔فرماتے ہیں:۔ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے یہی اک فیر شان اولیاء ہے خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے (در ثمین صفحه : ۴۹ ) اولیاء کی شان بھی سمجھا دی۔خواہ مخواہ لوگ مرعوب ہو رہے ہوتے ہیں کہ پتا نہیں کیا چیز ہے۔کیسا عمدہ تجزیہ ہے:۔بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے تقویٰ ہی ہے نہ ور نہ یہ نہیں کہ عجیب و غریب کرشمے دکھانے والی طاقتیں ان میں موجود ہیں مردوں کو زندہ کرنے والے یا حیرت انگیز نشان دنیا کو دکھانے والے ان چیزوں میں کوئی حقیقت نہیں۔بجز تقوى زیادت ان میں کیا ہے اگر کچھ برتری ہے تو سوائے تقویٰ کے اور کچھ نہیں ہے اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أنفسكم (الحجرات ۱۴۰) کا مضمون آپ نے نظمایا ہے:۔ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو، یہی دار الجزاء ہے تقویٰ کا جو فقدان ہے اس کے نتیجے میں اگر آپ غور کرنے والے ہوں تو آپ کو اسی دنیا میں ساتھ ساتھ اس کی جزا یعنی سزا کی شکل میں اس کی جزا ملنی شروع ہو جاتی ہے۔اسی لئے اس کو دارالجزاء کہتے ہیں۔مجھے تقویٰ سے اس نے یہ جزا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي کہ مجھے جس مقام پر کھڑا کیا ہے وہ تقویٰ کے نتیجے میں کھڑا کیا ہے۔عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ