خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 91
خطبات طاہر جلد۵ 91 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء گھر کی جنت اور اسوہ رسول نیز گھر تباہ کرنے والی بعض معاشرتی برائیوں کا ذکر ( خطبه جمعه فرموده ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ انشاء اللہ اگر خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو آئندہ جمعہ پر بعض معاشرتی خرابیوں کا ذکر کروں گا جو گھروں کی جنت کو تباہ کرنے کا موجب بنتی ہیں۔اور وہ مقاصد جن کی خاطر نکاح کیا جاتا ہے ان مقاصد کے بالکل برعکس نتائج پیدا کر دیتی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ بہت سے لوگ ان خرابیوں کی وجہ سے دکھ اٹھاتے ہیں ، وہ بھی دکھ اٹھاتے ہیں جو ان خرابیوں کا موجب ہوتے ہیں اور وہ بھی دکھ اٹھاتے ہیں جوان خرابیوں کا نشانہ بنائے جاتے ہیں اور معاشرتی خرابیاں ایسی نہیں ہوا کرتیں کہ صرف یک طرفہ دکھ پہنچا ئیں، پھر بھی دکھ پہنچانے والے بھی باز نہیں آتے اور جن کو دکھ پہنچایا جارہا ہوتا ہے، بسا اوقات وہ بھی اسی قسم کی غلطیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن کے نتیجہ میں معاشرہ مزید بد زیب اور بدصورت اور مکروہ اور کڑوا ہو جاتا ہے۔اس ذکر کے نتیجہ میں کچھ دوستوں نے خیال آرائی شروع کی۔بعض ذکر مجھ تک بھی پہنچے اور عموما جو میں نے اندازہ لگایا ہے اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بعض ساسیں یہ انتظار کر رہی ہیں کہ ہم جو بہوؤں کے خلاف جو شکایتیں کیا کرتی تھیں تو اگلے خطبہ میں بہوؤں کی شامت آئے گی اور بعض بہوئیں یہ امید لگائے بیٹھیں ہیں کہ ہم نے جو ساسوں کے خلاف چٹھیوں کی بھر مار کی ہوئی تھی تو اگلے