خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 86
خطبات طاہر ۵ 86 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۶ء دکھا دوں۔انہیں نئی بلندیوں تک پہنچا کے دکھاؤں اور بتاؤں کہ کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا، جو میرا منتظر تھا که محد مصطفی ﷺ دنیا میں ظاہر ہوں اور اخلاق کو ان چوٹیوں سے اٹھا ئیں جن پر ان کو گزشتہ بزرگوں نے قائم کیا تھا اور نئے بلند تر مقامات تک ان کو پہنچا دیں۔یہ منصب ہے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کا اور ہم ایک ایسی قوم ہیں ، ایسی خوش نصیب قوم ہیں جو ایسے بلند صاحب اخلاق انسان کے غلام کہلانے کے مستحق ٹھہرے لیکن مستحق ٹھہرے یا نہیں یہ ایک الگ سوال ہے۔مستحق ٹھہرنا چاہئے جن کو کیونکہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کا دعوی کرنے کے بعد آج مسلمان جو اخلاق میں دنیا میں سب سے ذلیل ترین قوموں میں شمار ہونے لگا ہے۔یہ اتنا بڑا تضاد ہے، اتنا بر اظلم ہے کہ اس ظلم کا اگر آپ تصور کریں تو آپ رواں رواں خدا کے خوف سے کا پنپنے لگے۔ایک معمولی ماں باپ کے بیٹے سے جب کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو لوگ اسے طعنہ دیتے ہیں دیکھتے نہیں تم کس باپ کے بیٹے ہو اور اس طعنہ پر بعض لوگ کٹ مرتے ہیں۔اس باپ کی حیثیت کیا ہے محمد مصطفی ﷺ کے بزرگ اخلاق کے مقابل پر اور عظمتوں کے مقابل پر۔یہ طعنہ آج اسلام کو مل رہا ہے، یہ ظلم کیا جارہا ہے آج اسلام پر کہ مسلمانوں کو نمایاں کر کے، مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے کہ تم وہ مسلمان ہو جو کہتے ہو کہ تمام دنیا میں بلند ترین اخلاق پر فائز کئے گئے تھے۔تم وہ مسلمان ہو جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ تمہارے آقا ومولا تمام دنیا میں سب صاحب خلق لوگوں سے افضل اور سب پر سبقت لے جانے والے تھے۔اپنا منہ دیکھو، اپنے اعمال دیکھو، اپنی حرکتیں دیکھو اور پھر سوچو کہ اپنے آقا کی کیا تصویر تم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہو۔اتنا خوفناک طعنہ ہے، اتنا دل ہلا دینے والا طعنہ ہے کہ اس کے باوجود اگر کوئی غیرت نہ دکھائے یا اس کے اندر ایک حیرت انگیز تبدیلی پیدا نہ ہو۔بیدار ہو کر اگر کوئی غور سے نہ دیکھے کہ میں کون ہوں کیا ہوں اور مجھ سے کیا توقعات کی جارہی تھیں تو ایسا آدمی تو معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ غفلت کی نیند میں سو یا پڑا ہے اٹھ ہی نہیں سکتا اور یا پھر وہ مردہ ہو چکا ہے۔جماعت احمدیہ کا یہ کام ہے کہ وہ اس کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرے۔جماعت احمد یہ آج اس مقام پر فائز کی گئی ہے، اس غرض سے قائم کی گئی ہے کہ ان کھوئی ہوئی عظمتوں کو حاصل کرے جو محد مصطفی ﷺ کے غلاموں کو زیبا ہیں۔جن کے بغیر عمل کی دنیا میں ہم حضرت محمد مصطفیٰ