خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 85
خطبات طاہر ۵ 85 خطبہ جمعہ ۲۴ / جنوری ۱۹۸۶ء تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہو گا اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقع کے لحاظ سے بالا رادہ ان کو استعمال کیا جائے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۳) پس آنحضرت ﷺ کے متعلق قرآن کریم نے جب فرمایاوَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: ۵) تو ان تمام صفات حسنہ کا ذکر فرما دیا جو انسان میں جمع ہوسکتی ہیں۔جس کے چند نمونے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے پیش فرمائے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفسیر فرمائی محض ان اخلاق کا ، ان صفات حسنہ کا آنحضرت ﷺ کو جمع قرار نہیں دیا بلکہ یہ فرمایا کہ یہ اخلاق اپنے اپنے محل پر حضرت رسول کریم ﷺ کو عطا کئے گئے۔ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔یہ ایک ایسا عظیم الشان ترجمہ ہے کہ اس ترجمہ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلطان القلم بنارہا یا کس طرح آپ کو سلطان القلم اس نے بنایا تھا۔آپ ترجمے اٹھا کر دیکھ لیں جہاں جہاں بھی خلق عظیم کا ترجمہ آئے گا وہاں لفظ بزرگ کی طرف کسی کا خیال نہیں جائے گا۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے بہتر اس محل اور موقع پر خلق عظیم کا ترجمہ مکن نہیں۔تجھے برزگ خلق پر قائم کیا گیا۔بڑی عظمت ہے اس لفظ بزرگ میں بڑی گہرائی ہے اور عظیم کا اس سے بہتر اور ترجمہ ممکن نہیں۔پس آنحضرت ﷺ کو برزگ خلق پر قائم فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر خلق جو اپنی انتہا کو پہنچا ہے، جو بلند مرتبے تک پہنچ چکا ہے اس خلق پر آنحضرت ﷺ کو قائم فرمایا گیا اور خود حضور کے اپنے الفاظ انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق اس بات کا مظہر ہیں کہ مجھے مبعوث فرمایا گیا کہ میں مکارم اخلاق کا اتمام کروں اور ان کو انتہا تک پہنچادوں۔مکارم اخلاق سے کیا مراد ہے۔مکارم اخلاق سے مراد ہے وہ خلق جو عزت کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوں۔معزز ترین اخلاق، برزگترین اخلاق - جو برزگ ترین مقام تک دنیا کے لحاظ سے پہنچ چکے تھے اور آج تک کوئی دوسرا اس سے آگے ان کو نہیں بڑھا سکا تھا، میں انہیں بھی کامل کر کے