خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 84

خطبات طاہر ۵ 84 خطبه جمعه ۲۴ /جنوری ۱۹۸۶ء پس صفات باری تعالیٰ میں رنگین ہونے کا مطلب جہاں ایک طرف الوہیت سے تعلق قائم کرنا ہے وہاں دوسری طرف عبدیت سے تعلق قائم کرنا بھی ہے اور اخلاق کا بہترین ہونا اس کا ایک طبعی اور لازمی نتیجہ ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی انسان با خدا تو بن رہا ہو ، خدا کی صفات میں تو رنگین ہور رہا ہولیکن دنیا کے لحاظ سے نہایت بد خو ہو اور انسانوں کے لئے اس کا گوشہ نرم نہ ہو۔اس لئے صفات باری تعالیٰ کا جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کا یہ مقصد ہے کہ جماعت احمد یہ ان صفات میں اس طرح رنگین ہو کہ اس کا ایک رنگ بنی نوع انسان پر بھی ظاہر ہورہا ہو ساتھ ساتھ۔یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اندرونی طور پر انسان میں کوئی پاک تبدیلی ایسی پیدا ہو کہ خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق بڑھ رہا ہو اور اس کے باوجود بنی نوع انسان سے اسکا تعلق کم ہورہا ہو۔خدا تعالیٰ کے لئے اس کا دل نرم ہو رہا ہو اور بنی نوع انسان کے لئے اس کا دل سخت ہو رہا ہو۔یہ متضاد باتیں ہیں یہ ایک وقت میں ممکن ہی نہیں ہے۔اس لئے صفات باری تعالیٰ کے سب کامل اور سب سے حسین مظہر حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو دیکھیں تو یہ عقدہ حل ہو جائے گا۔جتنا زیادہ آپ خدا کی صفات میں رنگین ہوئے اتنا ہی زیادہ حسن اخلاق کی دولت آپ کو عطا فرمائی گئی بلکہ یہاں تک عظمت آپ کو عطا کی گئی کہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تجھے ہم نے عظیم اخلاق پر قائم فرمایا ہے۔عظیم سے بڑھ کر حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کے اخلاق کے لئے کوئی اور لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔اللہ جل شانہ ہمارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمِ یعنی تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔سواس تشریح کے مطابق اس کے معنی ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت، عدل، رحم، احسان، صدق ، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔غرض جس قدر انسان کے دل میں قو تیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب، حیا، دیانت، مروت، غیرت، استقامت، عفت ، ذہانت ، اعتدال، مواسات یعنی ہمدردی۔ایسا ہی شجاعت، سخاوت، عفو،صبر ،احسان ،صدق ، وفا وغیرہ جب یہ