خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 865
خطبات طاہر جلد ۵ 865 خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۶ء وہ گندی فلمیں اس لئے دکھانے پر مجبور ہیں کہ یہ فلسفہ حیات فطرتاً گند کا مطالبہ کر رہا ہے اور جو ٹیلی وژن گند نہیں دکھائے گا وہ اس دور میں زندہ نہیں رہ سکے گا ، اس کو باہر نکال کے پھینک دیا جائے گا اور جو گند ایک دفعہ دکھا دے وہ اسی گند پر قائم رہے ایک دو سال دو سال تو وہ بھی اس باہمی دوڑ میں مات کھا کے مر جائے گا کیونکہ ایک گند کے بعد طبیعت سیر ہو جاتی ہے پھر نیا گند دیکھنا چاہتی ہے ۔ اس لئے آپ گزشتہ ہیں، پچیس سال میں ٹیلی وژن کا جائزہ لے کر دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے دیکھ کر کہ اتنی زیادہ بے حیائی کی طرف تیزی سے اب ٹیلی وژن آگے قدم بڑھا رہا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد وہ سب حدیں پھلانگ لے گا اور پھر کچھ بھی نہیں رہے گا۔ ہر قسم کی بے حیائی ہو گی لیکن اس سے بھی لوگ بور ہو جائیں گے۔ پھر وہ رد عمل ہوتا ہے جس کے بعد پاگل پن آتا ہے معاشرے کا بعض دفعہ Bohemianism اس سے پیدا ہوتا ہے بعض دفعہ پی ازم پیدا ہوتا ہے، بعض دفعہ Drugs Addictioin پیدا ہوتی ہے، بعض دفعہ سارے فلسفہ حیات سے ایمان اُٹھ جاتا ہے، انسان کہتا ہے کیا سولائزیشن، کیا ایٹم بم ، کیا یہ کیا وہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ انار کی کی طرف انسان قدم بڑھاتا ہے اور انارکی کی طرف بہت سارے قدم بڑھ چکے ہیں کہ جن سے ان قوموں کی واپسی اب ممکن نہیں رہی اس طرف جا رہے ہیں جہاں ایک اور قانون قدرت جو قومی موت کے لئے ذمہ دار ہے وہ ان کو دھکیلتا ہوا قومی موت کی طرف لے جا رہا ہے اور یہ کہتے ہیں نہیں ہم اتفاقاً ہی پیدا ہوتے ہیں اتفاقاً ہی مر جاتے ہیں ، زمانہ ہمیں مارتا ہے یا زمانہ زندہ کرتا ہے۔ یہ حرکتیں جو ہو رہی ہیں آج دنیا میں یہ بھی خدا کے قوانین ہیں جو ایک قومی اجتماعی موت کے قوانین ہیں یہ ان کی طرف لے جا رہے ہیں اور ایسی حرکتیں کرنے والے نہیں زندہ رہا کرتے زیادہ دیر۔ لازما یہ اپنی قبر کھودرہے ہیں خود آج نہیں تو کل اس میں گریں گے۔ تو ہمیں اپنے سال کا مطالعہ اس پہلو سے بھی کرنا چاہئے کہ کس حد تک ہم جن کی قومی زندگی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کم سے کم ایک ہزار سال کا وعدہ کیا ہے کس حد تک ہم اس وعدہ کے مطابق اپنے قدم اُٹھا رہے ہیں ، کسی حد تک ہم وقت کو ضائع کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر اور اپنے ذہنوں کو اندھا دھند بعض لوگوں کے غلام بناتے چلے جارہے ہیں، کس حد تک ہم آزاد