خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 864
خطبات طاہر جلد۵ 864 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء جائے۔ان کے خیالات کو رُخ دینا، ان کے زندگی کے رُخ خاص سمتوں میں پھیرنا ان باتوں کا اب ٹیلی ویژن کا بڑا بھاری اثر ہو چکا ہے۔چنانچہ اگر مجھے صیح یاد ہے نکسن کی کتاب تھی تو اس میں یہ درج تھا کہ ٹیلی وژن کے متعلق ہم اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ ہم جو بات کہہ سکتے ہیں اپنے فعل کے جواز میں وہ محدود ہے ہم ساری قوم کو ان تمام وجوہات سے مطلع کر ہی نہیں سکتے جن کے نتیجے میں ہم نے یہ قدم اُٹھایا ہے ٹیلی وژن پر ایک مبصر آجاتا ہے جس کو پورے حالات کا بھی پتا نہیں اور وہ آکر جس طرح پنجابی میں کہتے ہیں نہ پھینٹے خان بنا وہ بہت بھاری آدمی بن کر تبصرے شروع کرتا ہے اور وہ آزاد ہے ہر بات کرنے پر اور ذمہ دار لوگ ہر بات بتانے پر آزاد نہیں ہیں۔نتیجہ عوام الناس کے خیالات پر وہ اس سے زیادہ اثر پیدا کر جاتا ہے بعض مواقع پر، جتنا ایک سنجیدہ پریذیڈنٹ یونائیٹڈ سٹیٹس (United States) کا اثر کر سکتا ہے اور ڈبیٹ (Debate) میں وہ ہارتا ہے یہاں تک کہ وہ مجبور ہو جاتا ہے غلط پالیساں اختیار کرنے پر۔وہ یہ نتیجہ نکال رہے تھے کہ اتنا خطرناک ہے اور آگے جا کر اتنا خطرناک اور ہو جائے گا کہ کچھ عرصے بعد ہماری حیات و ممات چند پروفیشنل ٹیلیوژن چلانے والوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی، جس طرف چاہیں ہمارے خیالات کا رخ پھیریں کیونکہ ہم سب ایڈ کٹ (Addict) ہو چکے ہیں ٹیلی وژن کے، ٹیلی وژن کے نشے کے غلام بن چکے ہیں۔اس لئے اس نقطہ نگاہ سے بھی دیکھا جائے تو رفتہ رفتہ یہ جو چیزیں ہیں، یہ جو بظاہر اعلیٰ مقصد کے لئے ایجادات تھیں، اعلیٰ مقاصد کے لئے نہیں رہیں بلکہ اس مقصد کی پیروی کے لئے ہوگئی ہیں جس کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا تھا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا ہمیں کچھ پرواہ نہیں آئندہ زمانے پر کیا بنتی ہے، آئندہ ہماری نسلیں کیا بن کر اُٹھیں گی دنیا کے سامنے ، زندہ رہیں گی یا مریں گی کوئی پرواہ نہیں۔زمانہ ہے جو پیدا کرتا ہے، زمانہ ہے جو مارتا چلا جاتا ہے۔آباؤ اجداد کے زمانے سے ہم یہی دیکھتے چلے آرہے ہیں آئندہ بھی ہوتا رہے گا، کوئی رُخ نہیں، کوئی مقصد نہیں۔اس لئے یہ تھوڑی سی زندگی جو ہمیں میسر ہے اس میں جو چاہتے ہو ، جس قسم کی عیش چاہتے ہو کرتے چلے جاؤ اور عیش کے حصول کے لئے ، لذت طلبی کے لئے ہر دوسری قدر کو قربان کیا جا سکتا ہے، یہ ہے فلسفہ حیات۔اسی لئے جرم بڑھتے ہیں، اس لئے رفتہ رفتہ ٹیلی وژن والے جرائم دکھانے پر مجبور ہوتے چلے جارہے ہیں کیونکہ فلسفہ حیات اس کا مطالبہ کر رہا ہے یہ بات بھول گئے ہیں بعض مبصرین۔