خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 863 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 863

خطبات طاہر جلد۵ 863 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء ویژن کی وجہ سے، ساتھ ساتھ مطالعہ مشکل اور مشکل ہوتا چلا جارہا ہے۔یہاں تک کہ مذہبی مطالعہ تو ایک بہت بڑی مصیبت بن گئی ہے ہماری اگلی نسلوں کے لئے۔آپ ان کو مذہبی مطالعہ کے لئے کتاب دیں گے تو حیران ہو کر دیکھیں گے کہ یہ کر کیا رہے ہیں یہ کوئی زمانہ ہے، تھکا ہوا میں سکول سے آیا ہوں، اپنی کتابوں سے فارغ ہوا ہوں اب مجھے ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھنے دیں، یہ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب پڑھو فلاں خطبہ سنو یا فلاں خطبہ پڑھو یا یہ مطالعہ کر دیا عیسائیت اور اسلام کا موازنہ کرو۔اتنی مصیبت بو جھل چیزیں تھوڑا سا پڑھیں گے تو بچے کہیں گے ہمیں سمجھ نہیں آرہی چھوڑ دیں بس اور ماں باپ بھی زور نہیں دیتے کہ کہیں بچے بالکل ہی ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔خود بے اختیار ہوتے چلے جارہے ہیں کیونکہ مطالعہ کی عادت نہیں ہے۔مطالعہ کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے دنیاوی نقصان بھی بے شمار ہو رہے ہیں اور مذہبی اور روحانی اور تمدنی نقصانات تو بے شمار ہیں۔رفتہ رفته انسان چند با شعور شرارت کرنے والوں کے قبضے میں جا رہا ہے بحیثیت مجموعی۔اس بات کا آپ کو پورا احساس نہیں ہے امریکہ میں بارہا ایسے جائزے ہوتے رہے ہیں جن کے نتیجہ میں یہ بات زیادہ کھل کے سامنے آتی جارہی ہے کہ دن بدن انسان یعنی امریکہ کا انسان ایسی چند کمپنیوں کے ہاتھ میں جا رہا ہے جو جس طرف چاہیں اس کے دماغ کا رخ بدل دیں۔یہاں تک کہ امریکن پریذیڈنٹ بھی اپنے آپ کو اس معاملے میں بالکل بے اختیار پارہے ہیں۔چند سال ہوئے غالباً پریذیڈنٹ نکسن جو سابق پریذیڈنٹ تھے ان کی کتاب تھی جس کا میں نے مطالعہ کیا انہوں نے اپنے Presidency کے حالات اور بہت سی باتیں اور متعلقہ لکھی تھیں۔اس میں وہ ضمنا ذکر کرتے ہیں کہ پولیٹکس اب ہمارے ہاتھوں سے نکل کر ان لوگوں کے ہاتھوں میں جارہی ہے جن کے ہاتھ میں ایسی دولتیں ہیں جن کے ذریعے وہ ٹیلی وژن پر کنٹرول کر رہے ہیں یعنی دولتوں کے مختلف مصارف ہیں، ان میں سے ایک باشعور مصرف یہ ہے کہ ٹیلی وژن اور میڈیا پہ قبضہ کیا جائے اور وہ لوگ اکثر یہود ہیں اور ان کی جو کتابیں بعض پرانی شائع ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ صدی کے آخر پر ہی انہوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ دنیا کو اس طرح عیش و عشرت اور لہو ولعب میں مصروف کر دینا ہے اور ایسی نئی نئی ایجادات کرنی ہیں ان کے لئے لذت طلبی کی کہ وہ جو کچھ کمائیں ساری نعمتیں ان کی عیش وعشرت پر خرچ ہوں اور وہ روپیہ پھر واپس لوٹ کر ہمارے پاس آتا چلا