خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 857 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 857

خطبات طاہر جلد۵ 857 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء کے نظام سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئے اور اس پر بھی غور کرتے رہنا چاہئے۔ہمارے لئے بھی ایک موت کا نظام مقدر ہے اور وہ اسباب وہی ہیں جو پہلی قوموں کی موت کے اسباب بنا کرتے تھے۔ان پر بھی غور ضروری ہے، ہم یہ تو نہیں کہتے کہ یہ ساری فرضی باتیں ہیں اس لئے قرآن کریم کے فیصلے کے نیچے نہیں آنی چاہئیں اِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ کہ محض فرضی ڈھکو سلے بنارہے ہیں یہ لوگ ، ان کو کچھ بھی حقیقت حال کا علم نہیں۔جماعت احمدیہ کا اندرونی نظام شہادت دے رہا ہے کہ اس جماعت کے قیام کا ایک مقصد ہے ، ایک خاص رخ ہے۔خاص ترتیب سے یہ جماعت قائم فرمائی گئی ہے اور اعلیٰ مقاصد کی پیروی کے لئے خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کو جیسے ہانک کر لے جاتے ہیں اس طرح باندھ کر ایک خاص مقصد کی طرف ، ایک خاص رخ کی طرف لے جا رہے ہیں۔تو جہاں حیات کا ایسا اعلیٰ نظام موجود ہے وہاں اس خیال سے غافل ہو جانا کہ موت کا بھی نظام ہوگا ، یہ بڑی بے وقوفی ہوگی۔جو قو میں زندہ کی جاتی ہیں جن کو ارتقاء کے رستے پر چلایا جاتا ہے ، ان کے موت کے بھی اسباب مقدر ہوتے ہیں اور معین ہوتے ہیں اور قرآن کریم نے ان اسباب پر کثرت سے روشنی ڈالی ہے۔ان میں کچھ اسباب یہاں آپ آج دیکھ رہے ہیں یعنی مغربی دنیا میں بسنے والے، یا مشرقی دنیا میں مادہ پرست قوموں میں بسنے والے، جاپان میں بھی دیکھ رہے ہوں گے، دوسری قوموں میں بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کی زندگی کا مقصد سوائے دنیا طلبی کے اور عیش پرستی کے اور کچھ بھی نہیں۔اگر ہمارا یہ مقصد نہیں ہے تو پھر ہمارا مقصد کیا ہے ہم نے کس حد تک اس کی پیروی کی ؟ کس حد تک اس سال میں اس کی پیروی سے غافل رہے؟ کون سے موجبات ہیں جو ہمیں پیروی سے غافل رکھنے میں عمل پیرا ہیں؟ کون سے ایسے محرکات ہیں جن کے نتیجے میں ہم پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں؟ یہ سارا جائزہ ہونا چاہئے۔یہ جائزے انفرادی بھی ہونے چاہئیں اور اجتماعی بھی ہونے چاہئیں۔جہاں تک اجتماعی جائزوں کا تعلق ہے آج سے لے کر سال کے آخر تک مجالس عاملہ اس موضوع پر بیٹھیں ساری دنیا میں کہ ہم نے اس سال میں کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے۔ہم سے کیا ایسی غلطیاں ہوئیں جو وہ تو میں کیا کرتی ہیں جن کا قدم موت کی طرف روانہ ہو۔کون سے ہم نے ایسے اچھے کام کئے جو زندہ قوموں کے اسلوب ہوا کرتے ہیں اور کس طرح اُن